hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37170

.

كنز العمال

37170
Kanz al-Ummal
37160- "مسند حصين بن عوف الخثعمي" أن طلحة بن البراء لما لقي النبي صلى الله عليه وسلم فجعل يلصق برسول الله صلى الله عليه وسلم ويقبل قدميه، قال: يا رسول الله! مرني بما أحببت ولا أعصي لك أمرا! فعجب لذلك النبي صلى الله عليه وسلم وهو غلام فقال له عند ذلك: اذهب فاقتل أباك، فخرج موليا ليفعل، فدعاه فقال له: أقبل فإني لم أبعث بقطيعة رحم ، فمرض طلحة بعد ذلك ، فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده في الشتاء في برد وغيم ، فلما انصرف قال لاهله : لا أرى طلحة إلا حدث فيه الموت فآذنوني به حتى أشهده وأصلي عليه وعجلوه ، فلم يبلغ النبي صلى الله عليه وسلم بني سالم بن عوف حتى توفي وجن عليه الليل ، فكان فيما قال طلحة : ادفنوني وألحقوني بربي عزوجل ولا تدعوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فإني أخاف عليه اليهود أن يصاب في سببي ، فأخبر النبي صلى الله عليه وسلم حين أصبح ، فجاء حتى وقف على قبره فصف الناس معه ثم رفع يديه فقال : اللهم الق طلحة تضحك إليه ويضحك إليك (طب ، عن حصين بن وحوح الانصاري ، طلحة بن عبيد الله مر ذكره في العشرة المبشرة)
٣٧١٥٩۔۔۔” مسند حصین بن عوف خنعمی “ روایت ہے کہ جب حضرت طلحہ بن براء (رض) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چمٹ گئے اور آپ کے قدموں کا بوسہ لینے لگے، عرض کیا : یارسول اللہ آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں میں کسی حکم میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا طلحہ (رض) ابھی نوجوان لڑکے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے جذبات کو دیکھ کر تعجب میں پڑگئے اور فرمایا : چلوجاؤ اپنے باپ کو قتل کرو چنانچہ طلحہ (رض) ابھی نوجوان لڑکے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے جذبات کو دیکھ کر تعجب میں پڑگئے اور فرمایا : چلوجاؤ اپنے باپ کو قتل کرو چنانچہ طلحہ (رض) حکم بجالانے کے لیے پیٹھ پھیر کر چل پڑے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طلحہ (رض) کو اپنے باپ بلایا جب وہ آپ کے پاس آگئے آپ نے فرمایا : بلاشبہ مجھے قطع رحمی کے لیے مبعوث نہیں کیا گیا ، اس کے بعد سردی اور بارش کی وجہ سے طلحہ (رض) بیمار پڑگئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی عیادت کرنے تشریف لائے اور لوگوں سے فرمایا : مجھے لگتا ہے کہ اس کی وفات قریب ہوچکا ہے لہٰذا اگر اس کی روح قبض ہوجائے مجھے ضرور اطلاع کرتا تاکہ میں اس کی نماز جنازہ پڑھاؤں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابھی بنی سالم کے محلہ تک بھی نہیں پہنچے تھے کہ طلحہ (رض) نے جان جان آفریں کے سپرد کردی اور بوقت وفات کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع مت کروچونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہودی کوئی گزندنہ پہنچائیں رات کی سخت تاریکی ہے لہٰذا مجھے فی الفوردفن کردینا تاکہ میں اپنے رب سے جاملوں ۔ چنانچہ صبح کو جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع کی گئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طلحہ (رض) کی قبر پر تشریف لائے خود آگے کھڑے ہوئے اور اپنے پیچھے صحابہ (رض) کی صف بنائی اور یوں قبر پر نماز جنازہ ادا کی جب فارغ ہوئے تو دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی : یا اللہ ! طلحہ سے ملاقات کر بایں طور کہ توا سے دیکھ کر ہنس رہا ہو اور وہ تجھے دیکھ کر ہنس رہا ہو۔ (رواہ الطبرانی عن حصین بن وحرح الانصاری)
طلحہ بن عبیداللہ کا ذکر عشرہ مبشرہ میں ہوچکا ہے۔