37169- عن عمر قال: كتب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لعبد الله بن أرقم: أجب هؤلاء، فأخذه عبد الله بن أرقم فكتبه ثم جاء بالكتاب فعرضه على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أحسنت، فما زال ذلك في نفسي حتى وليت فجعلته في بيت المال. البزار وضعف1
٣٧١٦٨۔۔۔ حضرت عمر (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خط لکھا گیا، آپ نے عبداللہ بن ارقم (رض) کو دیکھنے کا حکم دیا، عبداللہ بن ارقم (رض) نے خط کا جواب لکھا اور پھر خط لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے آپ نے فرمایا : شاباش اس وقت سے میرے دل میں عبداللہ بن ارقم کا مقام پیدا ہوگیا حتیٰ کہ جب مجھے بار خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی میں نے عبداللہ بن ارقم (رض) کو بیت المال کا ذمہ دار بنادیا۔ (رواہ البزار)
کلام :۔۔۔ مصنف کہتے ہیں کہ یہ حدیث بزار نے ضعیف قراردی ہے۔