hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37188

.

كنز العمال

37188
Kanz al-Ummal
37178- عن ابن عباس قال: سألت عمر بن الخطاب عن قول الله عز وجل {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} قال: كان رجال من المهاجرين في أنسابهم شيء فقالوا يوما: والله! لوددنا أن الله أنزل قرآنا في نسبنا، فأنزل الله ما قرأت، ثم قال لي: إن صاحبكم هذا - يعني علي بن أبي طالب - إن ولي زهد ولكن أخشى عليه عجبه بنفسه أن يذهب به، قلت: يا أمير المؤمنين! إن صاحبنا من قد علمت! والله ما نقول: إنه ما غير ولا بدل ولا أسخط رسول الله صلى الله عليه وسلم أيام صحبته! ولا بنت أبي جهل وهو يريد أن يخطبها على فاطمة؟ قلت: قال الله في معصية آدم عليه السلام: {وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً} فصاحبنا لم يعزم على إسخاط رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولكن الخواطر التي لا يقدر أحد دفعها عن نفسه وربما كانت من الفقيه في دين الله العالم بأمر الله، فإذا نبه عليها رجع وأناب، فقال: يا ابن عباس! من ظن أنه يرد بحوركم؟ فيغوص فيها معكم حتى يبلغ قعرها فقد ظن عجزا."الزبير بن بكار في الموفقيات".
٣٧١٧٧۔۔۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے اس فرمان باری تعالیٰ سے متعلق دریافت کیا : یا ایھا الذین امنوا لاتسالوا عن اشیاء ان تبدلکم تسوء کم یعنی اے ایمان والو ! ان چیزوں کے متعلق مت سوال کرو جنھیں تمہارے لیے اگر ظاہر کردیا جائے تو تم پریشان ہوجاؤ۔ “ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مہاجرین میں سے کچھ لوگوں کے نسب میں عیب تھا وہ ایک دن کہنے لگے : اللہ کی قسم ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں ہمارے نسب کے متعلق کچھ نازل فرمائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریم نازل فرمائی۔ پھر عمر (رض) نے مجھ سے فرمایا : تمہارا یہ صاحب ” یعنی حضرت بن ابی طالب (رض) “ اگر والی بنادیا جائے تو بےرغبتی کرے گا لیکن مجھے اس کا عجب کا خوف ہے کہ وہ اسے لے نہ جائے میں نے عرض کیا اے امیرالمومنین ! ہمارے صاحب کو آپ جانتے ہیں، اللہ کی قسم ہم کہتے ہیں کہ اس انھیں نہ تغیر ہوئی نہ تبدیلی ہوئی اور نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی صحبت کے ایام میں غصہ ہوئے انھوں نے ابوجہل کی بیٹی کو فاطمہ (رض) پر لانے کے لیے پیغام نکاح بھیجا میں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی معصیت پر فرمایا :” لم نجدلہ عزما “ ہم نے ان کی طرف سے معصیت پر پختہ عزم نہیں پایا۔ اس طرح ہمارے صاحب نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غصہ میں لانے کے لیے پختہ عزم نہیں کیا۔ لیکن جہاں تک وسوسوں کی بات ہے سو ان سے دور رہنے کی کسی کو قدرت نہیں حاصل۔ بسا اوقات کسی فقیہ اور عالم سے غلطی ہوجاتی ہے جب اسے تنبیہ کی جاتی ہے تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرلیتا ہے عمر (رض) نے فرمایا : اے ابن عباس ! کوئی شخص اگر گمان کرے کہ وہ تمہارے علمی سمندر میں غوطہ لگائے اور اس کی گہرائی تک جاپہنچے بلاشبہ وہ اس سے عاجزی ہی رہے گا۔ (رواہ الزبیربن بکار فی الموفقیات)