hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37202

.

كنز العمال

37202
Kanz al-Ummal
37192- عن ابن عباس قال: دخلت أنا وأبي على النبي صلى الله عليه وسلم، فلما خرجنا من عنده قلت لأبي: ما رأيت الرجل الذي كان مع النبي صلى الله عليه وسلم ما رأيت رجلا أحسن وجها منه، فقال لي: هو كان أحسن وجها أم النبي؟ قلت: هو، قال: فارجع بنا، فرجعنا حتى دخلنا عليه، فقال له أبي: يا رسول الله! أين الرجل الذي كان معك؟ زعم عبد الله أنه كان أحسن وجها منك، قال: يا عبد الله! رأيته؟ قلت: نعم، قال: أما إن ذاك جبريل، أما إنه حين دخلتما قال لي:يا محمد! من هذا الغلام؟ قلت: ابن عمي عبد الله بن العباس، قال: أما إنه لمحل للخير، قلت: يا روح الله! ادع الله له، فقال: اللهم بارك عليه، اللهم اجعل منه كثيرا طيبا. "ابن النجار".
٣٧١٩١۔۔۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں اور میرے والد محترم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھے جب ہم آپ کے پاس سے اٹھ کر باہر نکل آئے میں نے والد سے عرض کیا : آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا شخص نہیں دیکھا ، میں نے اس سے خوبصورت شخص کوئی نہیں دیکھا والد نے کہا : وہ شخص خوبصورت تھا یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ؟ میں نے جواب دیا : وہ شخص خوبصورت تھا۔ والد بولے : ہمارے ساتھ واپس چلو ہم واپس لوٹ گئے اور آپ کے پاس جاپہنچے والوں نے کہا : یارسول اللہ ! وہ شخص کہاں چلا گیا جو آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ؟ عبداللہ کا خیال ہے کہ وہ آپ سے زیادہ خوبصورت ہے آپ نے فرمایا : اے عبداللہ ! تم نے وہ شخص دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، فرمایا : وہ تو جبرائیل امین تھے جب تم دونوں میرے پاس آئے جبرائیل امین نے مجھے کہا : اے محمد ! یہ کون لڑکا ہے ؟ میں نے جواب دیا : یہ میرے چچا عباس کا بیٹا عبداللہ ہے جبرائیل امین نے کہا : یہ لڑکا سراپا خیر و بھلائی ہے۔ میں نے کہا : اے جبرائیل ! اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا کرو۔ جبرائیل امین بولے : یا اللہ ! اسے برکت عطا فرمایا اللہ ! اسے کثرت سے پاگیزگی عطا فرما (رواہ ابن النجار