hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37215

.

كنز العمال

37215
Kanz al-Ummal
37205- عن كميل قال قال عمر بن الخطاب: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه أبو بكر ومن شاء الله، فمررنا بعبد الله بن مسعود وهو يصلي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من هذا الذي يقرأ؟ فقيل له: هذا عبد الله بن أم عبد، فقال: إن عبد الله يقرأ القرآن غضا كما أنزل، فأثنى عبد الله على ربه وحمده كأحسن ما أثنى عبد على ربه. ثم سأله فأخفى المسألة وسأله كأحسن مسألة عبد ربه، ثم قال: اللهم! إني أسألك إيمانا لا يرتد ويقينا لا ينفذ ومرافقة محمد النبي صلى الله عليه وسلم في أعلى عليين في جناتك جنات الخلد! وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سل تعطه، سل تعطه! فانطلقت لأبشره فوجدت أبا بكر قد سبقني وكان سباقا بالخير. "كر" وقال: هذا غريب، والمحفوظ عن عمر ما تقدم أول المسند".
٣٧٢٠٤۔۔۔ کمیل کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا اور ابوبکر (رض) کچھ اور لوگ بھی آپ کے ہمراہ تھے ہم عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس سے گزرے وہ نماز پڑھ رہے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کون ہے جو مزے لے لے کر قرات کررہا ہے کسی نے جواب دیا : یہ عبداللہ ! ابن ام عبد ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عبداللہ اسی طرح قرآن پڑھ رہا ہے جس طرح نازل ہوا ہے پھر عبداللہ (رض) نے رب تعالیٰ کی حمدوثناء کی اور کیا خوب انداز سے رب تعالیٰ کی حمد وثناء کی پھر اللہ تعالیٰ سے خوبصورت انداز میں مانگنا شروع کیا پھر یہ دعا مانگی :
اللھم انی اسالک ایمانا لا یرتد ویقینا لا ومرافقۃ محمد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فی اعلی علیین فی جناتک جنات الخلد
یا اللہ ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جو ردنہ کیا جائے ایسے یقین کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہونے پائے اور اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تیری بہشتوں میں اعلیٰ علیین میں رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مار ہے تھے سوال کرو تمہیں عطا کیا جائے گا سوال کرو تمہیں عطا کیا جائے گا میں عبداللہ (رض) کو خوشخبری سنانے چلا لیکن ابوبکر مجھ پر سبقت لے گئے خیروبھلائی کے کاموں میں ابوبکر (رض) سبقت لے جاتے تھے۔ (رواہ ابن عساکر وقال ھذا غریب والمحفوظ عن عمر ماتقدم اول المسند)