hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37237

.

كنز العمال

37237
Kanz al-Ummal
37227- عن عبد الله بن الزبير أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يحتجم فلما فرغ قال: يا عبد الله! اذهب بهذا الدم فأهرقه حتى لا يراك أحد - وفي لفظ: فواره حيث لا يراه أحد - فلما برز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم عمد إلى الدم فشربه، فلما رجع قال: يا عبد الله! ما صنعت؟ قال جعلته في أخفى مكان علمت أنه خاف عن الناس، قال: لعلك شربته؟ قلت نعم، قال: ولم شربت الدم؟ ويل للناس منك وويل لك من الناس؛ قال أبو عاصم: كانوا يرون أن القوة التي به من ذلك الدم. "ع، كر".
٣٧٢٢٦۔۔۔ حضرت عبداللہ بن زبیر کی روایت ہے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے دراں حالیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سینگی لگوا رہے تھے جب سینگی لگوا کر فارغ ہوئے فرمایا : اے عبداللہ ! یہ خون ایسی جگہ بہادو جہاں لوگ اسے نہ دیکھ لوٹے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبداللہ ! تم نے کیا کیا ؟ عرض کی : میں نے خون انتہائی خفیہ جگی میں ڈال دیا ہے جو لوگوں کی نظروں سے بالکل مخفی ہے آپ نے فرمایا : شاید تم نے خون پی لیا ہے میں نے عرض کیا : جی ہاں، فرمایا : تم نے خون کیوں پیا ؟ لوگوں کے لیے تم سے ہلاکت ہے اور تمہارے لیے لوگوں سے ہلاکت ہے۔ ابوعاصم کہتے ہیں : لوگوں کا خیال ہے کہ عبداللہ بن زبیر (رض) میں قوت اسی خون کی وجہ سے تھی۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)