37261- عن محمد بن إسحاق قال حدثني من لا أتهم أن كعبا قدم مكة وبها عبد الله بن عمرو بن العاص فقال كعب: سلوه عن ثلاث، فإن أخبركم بهن فهو عالم، سلوه عن شيء من الجنة وضعه الله للناس في الأرض، سلوه ما أول ماء وضع في الأرض، وما أول شجرة غرست بالأرض، فسئل عبد الله عنها فقال: الشيء الذي وضعه الله للناس في الأرض من الجنة فهذا الركن الأسود وأول ماء وضع في الأرض فبرهوت ماء باليمن يرده هام الكفار،وأما أول شجرة غرسها الله في الأرض فالعوسجة التي اقتطع منها موسى عصاه. فلما بلغ ذلك كعبا قال: صدق الرجل والله عالم. "كر".
٣٧٢٦٠۔۔۔ محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ مجھے ایسے شخص نے حدیث سنائی ہے جسے میں تہمت زدہ نہیں سمجھتا۔ کہا کہ کعب (رض) مکہ آئے اور مکہ میں حضرت عبداللہ بن عمروبن عمروبن العاص (رض) تھے کعب (رض) بو کے : عبداللہ بن عمرو (رض) سے تین چیزوں کے متعلق سوال کروا گروہ تمہیں ان کے متعلق بتادیں سمجھ لو کہ وہ عالم ہیں ان سے پوچھ کہ زمین پر سب سے پہلابانی کون سا ہے ؟ زمین پر سب سے پہلا کون سا درخت لگایا گیا ؟ وہ کونسی جنت میں پائی جانے والی کوئی چیز ہے جو زمین پر لوگوں کے لیے رکھ دی گئی ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے فرمایا : پہلا پانی جو سرزمین پر لوگوں کو نفع رسانی کے لیے پیدا کیا گیا وہ یمن میں آب برھوت ہے زمین پر سب سے پہلا اگایا جانے والا درخت عوسجہ ہے جس سے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا توڑا تھا اور جنت میں پائی جانے والی چیز جو زمین میں لوگوں کے لیے رکھ دی گئی ہے وہ حجر اسود ہے۔ جب کعب (رض) کو اس کی خبر دی گئی تو بولے اس شخص نے سچ کہا ن خدا یہ عالم ہے۔ (رواہ ابن عساکر)