hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37279

.

كنز العمال

37279
Kanz al-Ummal
37269- "مسند الأدرع" جئت ليلة أحرس النبي صلى الله عليه وسلم فإذا رجل قراءته عالية فخرج النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله! هذا مراء، قال: هذا عبد الله ذو البجادين، فمات بالمدينة ففرغوا من جهازه فجملوا نعشه فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ارفقوا به رفق الله به! إنه كان يحب الله ورسوله، وحفر حفرته فقال: أوسعوا له أوسع الله عليه! فقال بعض أصحابه: يا رسول الله! لقد حزنت عليه فقال أجل: إنه كان يحب الله ورسوله. "هـ والبغوي وابن منده وقال: غريب لا يعرف إلا من هذا الوجه وأبو نعيم وفي مسنده موسى بن عبيدة الربذي ضعيف.
٣٧٢٦٨۔۔۔” مسندادرع “ ادرع (رض) کہتے ہیں : ایک رات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پہر دیتے حاضر ہوا یکایک میں بآواز بلند کسی شخص کی قرات سنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ دکھلاوہ ہے فرمایا : یہ عبداللہ ذوالبجادین ہے چنانچہ حضرت عبداللہ ذوالبجادین (رض) نے مدینہ میں وفات پانی ان کی تجہیزو تکفین کے لیے صحابہ (رض) پریشان ہوئے اور ان کی میت دیر تک روکے رکھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے ساتھ نرمی کرو اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ نرمی کی ہے۔ چونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا تھا پھر ان کے لیے قبر کھودی گئی فرمایا : اس کے لیے گشادگی کرو اللہ تعالیٰ نے اس پر گشادگی کی ہے۔ بعض صحابہ (رض) نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اس پر غمزدہ ہورہے ہیں۔ فرمایا : جی ہاں۔ چونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا تھا۔ (رواہ ابن ماجہ والبغوی وابن مندہ وقال غریب لایعرف الامن ھذالوجہ و ابونعیم فی مسندہ موسیٰ بن عبیدہ الترمذی ضعیف )
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھا ضعیف ابن ماجہ ٣٤٢ نیز اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی ضعیف روای ہے۔