37273 (أيضا) خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يعود عبد الله بن أبي من مرضه الذي مات فيه ، فلما دخل عليه عرف فيه الموت فقال : قد كنت أنهاك عن حب يهود ! قال : فقد أبغضهم أسعد ابن زرارة فمات فما نفعه ، فلما مات أتاه ابنه فقال : يا رسول الله !إن عبد الله بن أبى قد مات فأعطني قميصك أكفنه فيه ، فنزع رسول الله صلى الله عليه وسلم قميصه فأعطاه إياه (حم ، د والروياني ، طب ، ق في الدلائل ، ض).
٣٧٢٧٣۔۔۔ حضرت اسامہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبداللہ بن ابی کی عیادت کرنے تشریف لے گئے عبداللہ مرض الوفات میں تھا جب آپ عبداللہ بن ابی کے پاس پہنچے تو آپ نے اسمیں موت کے نشانات پہچان لیے اور فرمایا : میں تمہیں یہودیوں کی محبت سے منع کرتا تھا۔ عبداللہ بن ابی بولا اسعد بن زرارہ بھی تو یہودیوں سے بغض کرتا تھا وہ مرگیا اور یہودیوں کے بغض نے اسے کوئی نفع نہ پہنچایا جب ابن ابی مرگیا تو اس کا بیٹا آیا اور عرض کیا : عبداللہ بن ابی مرچکا ہے آپ مجھے عطا کریں تاکہ اس میں اسے کفناؤں۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قمیض اتاری اور اسے دے دی۔ (رواہ احمد بن حنبل وابو داؤد والرویانی والطبرانی والبیھقی فی الدلائل والضیاء)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف ابی داؤد ٦٨١۔