37287- عن عقبة بن عامر قال: بلغني قدوم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة وأنا في غنيمة لي، فرفضتها وقدمت المدينة على النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت يا رسول الله! بايعني، قال: بيعة إعرابية تريد أو بيعة هجرة؟ قلت: لا، بل بيعة هجرة، فبايعني رسول الله صلى الله عليه وسلم وأقمت معه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا! من كان هنا من معد فليقم، فقام رجال وقمت معهم، فقال: اجلس أنت، فصنع ذلك ثلاث مرات، فقلت: يا رسول الله - صلى الله عليه وسلم! أما نحن من معد؟ قال: لا، قلت: ممن نحن؟ قال: أنتم من قضاعة بن مالك بن حمير. "ابن منده، كر".
٣٧٢٨٦۔۔۔ عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ تشریف لانے کی خبر پہنچی میں اپنی بکریوں میں تھا میں نے وہیں بکریاں چھوڑیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھ سے بیعت کے لیں ارشاد فرمایا : بیعت اعرابیہ چاہتے ہو یا بیعت ہجرت ؟ میں نے عرض کیا : نہیں بلکہ میں بیعت ہجرت چاہتا ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے بیعت لی اور میں نے آپ کے ساتھ قیام کرلیا پھر آپ نے فرمایا : جو شخص معد کی اولاد میں سے یہاں ہو وہ کھڑا ہوجائے کچھ لوگ کھڑے ہوئے میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا آپ نے فرمایا : تو بیٹھ جا۔ آپ نے تین مرتبہ یہی کیا میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا میں معد کی اولاد میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ۔ میں نے عرض کیا : پھر میں کس کی اولاد سے ہوں ؟ فرمایا : تم فضاعہ بن مالک بن حمیر کی اولاد میں سے ہو۔ (رواہ ابن
مندہ وابن عساکر)