37292- "مسند ثعلبة بن عبد الرحمن بن ثعلبة الأنصاري" عن أبيه أن عمرو بن خبيب بن عبد شمس جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! إني سرقت جملا لبني فلان! فأرسل إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: إنا افتقدنا جملا لنا، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم فقطعت يده، قال ثعلبة: أنا أنظر إليه حين وقعت يده وهو يقول: الحمد لله الذي طهرني منك، أردت أن تدخلي جسدي النار."الحسن بن سفيان وابن منده، طب وأبو نعيم".
٣٧٢٩١۔۔۔” مسند ثعلبہ بن عبدالرحمن بن ثعلنہ انصاری “ ثعلبہ (رض) اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمروبن حبیب بن عبد شمس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے بنی فلاں کا ایک اونٹ چوری کیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ کے مالکوں کو اپنے پاس بلایا حاضر ہونے پر انھوں نے اعتراف کیا کہ ہم نے اپنا ایک اونٹ کم پایا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ ثعلبہ (رض) کہتے ہیں : جس وقت عمرو (رض) کا کٹا ہوا ہاتھ زمین پر گرا میں اسے دیکھ ریا تھا جب کہ عمرو (رض) کہہ رہے تھے۔ تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے مجھے اس چوری سے پاک کردیا ورنہ یہ مجھے دوزخ میں لے جانے کے درپے تھی۔ (رواہ الحسن ابن سفیان وابن مندہ والطبرانی و ابونعیم)