37298- عن ابن عمر قال: استسقى عمر بن الخطاب عام الرمادة بالعباس بن عبد المطلب فقال: اللهم! هذا عم نبيك صلى الله عليه وسلم نتوجه إليك به فاسقنا، فما برحوا حتى سقاهم الله، فخطب عمر الناس فقال: أيها الناس! إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرى للعباس ما يرى الولد لوالده يعظمه ويفخمه ويبر قسمه، فاقتدوا أيها الناس برسول الله صلى الله عليه وسلم في عمه العباس واتخذوه وسيلة إلى الله عز وجل فيما نزل بكم. "ك والبانياسي في جزئه، كر وابن النجار".
٣٧٢٩٧۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ قحط والے سال حضرت عمر (رض) نے حضرت عباس (رض) کے وسیلہ سے بارش طلب کی اور فرمایا : یا اللہ ! یہ شخص تیرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چچا ہے ہم تیرے حضور اس کا وسیلہ پیش کرتے ہیں لہٰذا ہمیں بارش عطا فرماچنانچہ تھوڑی دیر گزری تھی کہ اللہ تعالیٰ نے بارش فرمادی۔ ایک مرتبہ عمر (رض) نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عباس (رض) کو ایسا ہی سمجھتے تھے جیسا کہ بیٹا اپنے والد کو سمجھتا ہے اور اس کی عزت و احترام کرتا ہے اور اس کی قسم پوری کرتا ہے اے لوگو ! عباس (رض) کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء کرو اور قرب الہٰی کے لیے انھیں اپنا وسیلہ بناؤ۔ (رواہ الحاکم والبانیاسی فی جزیہ وابن عساکر وابن النجار)