37311- عن ابن عباس أن رجلا وقع في أب للعباس كان في الجاهلية فلطمه العباس فجاء قومه فقالوا: والله لنلطمنه كالطمه! حتى لبسوا السلاح، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فغضب فجاء فصعد المنبر فقال: من أنا! فقالوا: أنت رسول الله، قال: فإن عم الرجل صنو1 أبيه، لا تسبوا أمواتنا فتؤذوا أحياءنا، فقالوا: يا رسول الله! نعوذ بالله من غضبك فاستغفر لنا! فاستغفر لهم.
"كر".
٣٧٣١٠۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عباس (رض) کے باپ کو گالیاں دیں عباس (رض) نے اسے ایک طمانچہ رسید کیا اس شخص کی قوم دوڑتی ہوئی آگئی اور کہنے لگی : بخدا ! ہم بھی طمانچہ ماریں گے حتیٰ کہ قوم نے اسلحہ تان لیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر ہوئی آپ سخت غصہ میں آگئے اور منبر پر تشریف لے گئے فرمایا : میں کون ہوں ؟ لوگوں نے جواب دیا : آپ اللہ کے رسول ہیں فرمایا : آدمی کا چچا باپ کی مانند ہوتا ہے ہمارے مردوں کو گالیاں دے کر ہمارے زندوں کو اذیت مت پہنچاؤ لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم آپ کے غصہ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ہمارے لیے استغفار کریں چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے استغفار کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھے ضعیف النسائی ٣٢٨ والضعیفۃ ٢٣١٥۔