hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37332

.

كنز العمال

37332
Kanz al-Ummal
37322- عن عائشة قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم جالسا مع أصحابه وبجنبه أبو بكر وعمر، فأقبل العباس فأوسع له أبو بكر، فجلس بين النبي صلى الله عليه وسلم وبين أبي بكر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم لأبي بكر: إنما يعرف الفضل لأهل الفضل أهل الفضل، ثم أقبل العباس على النبي صلى الله عليه وسلم يحدثه، فخفض النبي صلى الله عليه وسلم صوته شديدا، فقال أبو بكر لعمر: قد حدث برسول الله صلى الله عليه وسلم علة قد شغلت قلبي، فما زال العباس عند النبي صلى الله عليه وسلم حتى فرغ من حاجته وانصرف، فقال أبو بكر: يا رسول الله! حدثت بك علة الساعة؟ قال: لا، قال: فإني قد رأيتك قد خفضت صوتك شديدا، قال: إن جبريل أمرني إذا حضر العباس أن أخفض صوتي كما أمركم أن تخفضوا أصواتكم عندي. "كر".
٣٧٣٢١۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کرام (رض) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے آپ کی ایک جانب ابوبکر (رض) بیٹھے تھے اور دوسری جانب حضرت عمر (رض) اتنے میں عباس (رض) آئے ان کے لیے ابوبکر (رض) کھسک گئے عباس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے درمیان بیٹھ گئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اہل فضل ہی فضلیت والوں کا مقام جانتے ہیں پھر عباس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف متوجہ ہو کر گفتگو کرنے لگے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی آواز بہت دھیمی کرلی۔ ابوبکر (رض) کے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی نیا واقعہ پیش آیا ہے جس نے میرا دل مشغول کرلیا ہے عباس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے رہے حتیٰ کہ جب اپنے کام سے فارغ ہوئے اور اٹھ کر چلے گئے ابوبکر (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ابھی کوئی نئی بات ہوئی ہے ؟ فرمایا نہیں عرض کیا : میں نے آپ کو دوران گفتگو آواز دھیمی کیے ہوئے دیکھا ہے آپ نے فرمایا : جبرائیل امین نے مجھے حکم دیا ہے کہ جب عباس (رض) تشریف لائیں میں آواز دھیمی کرلوں جس طرح تمہیں میرے پاس آواز دھیمی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)