37335- عن مسلم قال: رأيت عمر بن الخطاب بالمحصب فرأيته اضطجع ونظر في الأفق فسأله أصحاب له عن أشياء فلم يجب في ذلك شيئا. فقالوا: أرقدت يا أمير المؤمنين؟ قال: والله! ما رقدت ولكن أشياء حدثتها نفسي حتى والله غمتني، فنظرت في الأشياء كلها فإذا هي تمضي صعدا وتبدأ حتى إذا بلغت أناها رجعت فلم يكن شيئا، فتخوفت أن يكون هلك رسول الله صلى الله عليه وسلم ضعف الإسلام حتى يهلك العباس."الترقفي في جزئه".
٣٧٣٣٤۔۔۔ مسلم کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو محصب وادی میں دیکھا میں نے انھیں لیے ہوئے دیکھا آپ (رض) افق میں دیکھ رہے تھے آپ کے ساتھ مختلف قسم کے سوالات کئے جارہے تھے مگر آپ کچھ جواب نہیں دیتے تھے لوگوں نے کہا : اے امیر المومنین آپ سوچکے ہیں ؟ فرمایا : بخدا میں سویا نہیں ہوں لیکن میرے دل میں چند باتیں آئی ہیں جنہوں نے مجھے پریشان کردیا ہے میں نے چند چیزیں دیکھیں کہ وہ ترقی کرتی جارہی ہیں اور جب اپنے عروج پر پہنچتی ہیں وہاں سے واپس لوٹ آتی ہیں اور کچھ بھی نہیں ہوتیں مجھے خوف ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اسلام کمزور تو نہیں ہوگیا۔ حتیٰ کہ عباس بھی دنیا سے جاتے رہیں۔ (رواہ الترقفی فی جزہ )