37353- عن علي قال: رأيت في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم في منامي كأني جالس أنا وأبو بكر وعمر وعثمان إذ نزلت علينا مائدة من السماء حتى صارت في يد أبي بكر فأكل منها وتنحى، فقدم عمر فأكل منها ثم تنحى، فقدم عثمان فأكل منها ثم تنحى، فقدمت فأكلت، فبينا أنا كذلك إذا أنا بقومي فأقلبوني عنها، فما زلت أقاتلهم على الطعام حتى غلبوا فأكلوا، وإذا ببني عمي العباس قد جاؤوا فأقلبوهم عنها وجلسوا فأكلوا منها، فكنت معهم على القوم، فأولت ذلك الخلافة وأن بني عمي العباس تنالهم، فاحفظوا عني ذلك. "الحسن بن بدر في كتاب ما رواه الخلفاء".
٣٧٣٥٢۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات طیبہ میں خواب میں دیکھا گویا میں ابوبکر (رض) عمر، عثمان (رض) بیٹھے ہوئے ہیں یکایک ہمارے اوپر آسمان سے ایک دسترخوان نازل ہوا حتیٰ کہ ابوبکر (رض) کے ہاتھ میں آن لگا انھوں نے اس سے تناول کیا اور پھر اپنی جگہ سے ہٹ گئے پھر عمر آئے انھوں نے کھایا اور اپنی جگہ سے ہٹ گئے پھر آئے اور وہ بھی کھا کر ہٹ گئے پھر میں آگے بڑھا اور کھایا اس دوران میری قوم آگئی انھوں نے مجھے پلٹ دیا میں مسلسل کھانے پر ان سے لڑتا رہا لیکن وہ مجھ پر غالب آگئے اور کھانے لگے پھر یکایک میرے چچا عباس (رض) کی اولاد آگئی اور اس نے قوم کا پانسہ پلٹ دیا اور خوددسترخوان سے کھانے بیٹھ گئے میں نے اس کی تعبیر خلافت سے لی ہے۔ اور یہ کہ میرے چچا کی اولاد ان کی خبر لے گی مجھ سے یہ حدیث یاد رکھو۔ (رواہ الحسن بن بدر فی کتاب مارواہ الخلفاء)