37366- "مسند عثمان" عن سالم بن أبي الجعد قال: دعا عثمان ناسا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيهم عمار بن ياسر فقال: نشدتكم بالله! أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يؤثر قريشا على سائر الناس ويؤثر بني هاشم على سائر قريش؟ فسكت القوم فقال عثمان: لو أن بيدي مفاتيح الجنة لأعطيتها بني أمية حتى يدخلوها من عند آخرهم، وبعث إلى طلحة والزبير فقال: ألا أحدثكما عنه - يعني عمارا؟ أقبلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم آخذا بيدي يمشي في البطحاء حتى أتى على أبيه وأمه وعليه وهم يعذبون. فقال عمار: يا رسول الله الدهر هكذا فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: اصبر، ثم قال: اللهم اغفر لآل ياسر وقد فعلت. "حم" والبيهقي والبغوي في مسند عثمان، "عق" وابن الجوزي في الواهيات، "كر".
٣٧٣٦٥۔۔۔” مسند عثمان (رض) “ سلام بن ابی جعد کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) کو اپنے پاس بلایا ان میں حضرت عمار بن یاسر (رض) بھی تھے عثمان (رض) نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریش کو سب لوگوں پر فوقیت و ترجیح دیتے تھے صحابہ (رض) خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا : عثمان (رض) نے فرمایا : بالفرض اگر میرے ہاتھ میں جنت کی چابیاں ہوتیں تو میں وہ بنی امیہ کودے دیتا حتیٰ کہ وہ سب کے سب جنت میں داخل ہوجاتے۔ پھر عثمان (رض) نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کو پیغام بھیجا : کیا میں تمہیں عمار (رض) سے مروی حدیث نہ سناؤں ؟ کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چل رہا تھا آپ نے میرا ہاتھ پکڑا رکھا تھا آپ بطحاء میں چل رہے تھے۔ حتیٰ کہ آپ عمار (رض) کے والد والدہ اور خود عمار (رض) کے پاس تشریف لائے انھیں سخت تکلیفیں دی جارہی تھیں پھر عمار (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا زمانہ ایسا ہی ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صبر کرو پھر فرمایا : یا اللہ ! یاسر کی آل اولاد کی مغفرت فرما اور تو ایسا ہی کرتا ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل والبیھقی والبغوی فی مسند عثمان والعقیلی وابن الجوزی فی الواھیات وابن عساکر)