374 – "أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وأن يستقبلوا قبلتنا ويأكلوا ذبيحتنا ويصلوا صلاتنا فإذا فعلوا ذلك حرمت علينا دماؤهم وأموالهم إلا بحقها لهم ما للمسلمين وعليهم ما على المسلمين". (حم خ د ت حسن صحيح غريب حب قط عن أنس) .
٣٧٤۔۔ مجھے حکم ہوا ہے کہ لوگوں سے جنگ جاری رکھوں۔۔۔ حتی کہ وہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں ہمارے قبلہ کا رخ کریں ہمارا ذبیحہ کھائیں، ہماری نماز قائم کریں ۔ اگر انھوں نے ایسا کرلیا۔۔ تو ان کی جان ومال ہم پر حرام ہوگئے مگر ان کے حق کی وجہ سے ۔ اور آئندہ جو مسلمانوں کے لیے سود مند ہے وہ ان کے لیے بھی سود مند ہے اور جو مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہے وہ ان کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ مسند امام احمد، بخاری ، ابوداؤد ، ترمذی۔ حدیث حسن صحیح اور غریب ہے۔ الصحیح لابن حبان، الدار قطنی، بروایت انس (رض)۔