hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37400

.

كنز العمال

37400
Kanz al-Ummal
37390- عن خالد بن الوليد قال: ما عملت عملا أخوف عندي أن يدخلني النار من شأن عمار، قيل: وما هو؟ قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم في ناس من أصحابه إلى حي من العرب فأصبتهم وفيهم أهل بيت مسلمون فكلمني عمار في أناس من أصحابه فقال: أرسلهم، فقلت: لا حتى آتي بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإن شاء أرسلهم وإن شاء صنع فيهم ما أراد، فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم واستأذن عمار فدخل فقال: يا رسول الله! ألم تر إلى خالد بن الوليد فعل وفعل؟ فقال خالد: أما والله! لولا مجلسك ما سبني ابن سمية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اخرج يا عمار! فخرج وهو يبكي فقال: مانصرني رسول الله صلى الله عليه وسلم على خالد! فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أجبت الرجل؟ فقلت: يا رسول الله ما منعني منه إلا محقرة له، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يحقر عمارا يحقره الله، ومن يسب عمارا يسبه الله، ومن يبغض عمارا يبغضه الله، فخرجت فاتبعته فكلمته حتى استغفر لي. "ع، كر".
٣٧٣٨٩۔۔۔ حضرت خالد (رض) کہتے ہیں : میں نے ایک کام کیا جو میرے لیے بہت زیادہ باعث خوف تھا کہ وہ مجھے عمار (رض) کی وہ سے آتش دوزخ میں نہ داخل کردے۔ پوچھا گیا : بھلاوہ کیا ہے ؟ خالد (رض) نے کہا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ (رض) میں سے بعض لوگوں کے ساتھ عرب کی ایک بستی کی طرف بھیجا میں ن ے انھیں جالیا بستی میں مسلمانوں کا بھی ایک گھرانہ تھا عمار (رض) نے چند صحابہ (رض) کے ساتھ ان کے متعلق بات کی اور کہا : آپ انھیں رہا کردیں میں نے کہا : نہیں حتیٰ کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاس چلا جاؤں پھر آپ چاہیں انھیں آزاد کردیں یا ان کے متعلق جو چاہیں کریں۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا عمار (رض) نے بھی اندر آنے کے لیے اجازت طلب کی اندر آئے اور کہا : یارسول اللہ ! کیا آپ خالد کی طرف نہیں دیکھتے اس نے ایسا اور ایسا کیا ہے ؟ خالد (رض) بولے : اللہ کی قسم ! اگر آپ کی مجلس کے آداب ملحوظ نہ ہونے ابن سمیہ مجھے کبھی گالی نہ دیتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمار ! باہر نکل جاؤ۔ چنانچہ عمار (رض) روتے ہوئے باہر نکل گئے اور کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد (رض) کے خلاف میری مدد نہیں کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم اس شخص کو جواب نہیں دیتے ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اسے جواب دینے سے مجھے اس کی حقارت نے روک دیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے عمار کو حقارت کی نظر سے دیکھا اللہ تعالیٰ اسے حقارت کی نظر سے دیکھے گا جس نے عمار سے بغض رکھا اللہ اس سے بغض رکھے گا میں باہر نکلا اور عمار کے پیچھے ہولیا میں نے انھیں منالیا اور انھوں نے میرے لیے استغفار کیا۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)