37409- عن الحسن قال: لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة قال: ابنوا لنا مسجدا، قالوا: كيف يا رسول الله؟ قال: عرش كعرش موسى ابنوا لنا بلبن، فجعلوا يبنون ورسول الله صلى الله عليه وسلم يعاطيهم اللبن على ما دونه ثوب وهو يقول: اللهم إن العيش عيش الآخرة، فاغفر للأنصار والمهاجرة، فمر عمار بن ياسر فجعل النبي صلى الله عليه وسلم ينفض التراب عن رأسه ويقول: ويحك يا ابن سمية! تقتلك الفئة الباغية. "كر".
٣٧٤٠٨۔۔۔ حسن کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو فرمایا : ہمارے لیے مسجد بناؤ صحابہ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ کیسے بنائیں ؟ ارشاد فرمایا : اس کی چھت ایسی ہوجسی موسیٰ (علیہ السلام) کی چھت تھی چنانچہ صحابہ (رض) نے مسجد کی تعمیر شروع کردی جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ (رض) کو اینٹیں پکڑاتے جاتے تھے اور یہ شعر پڑھتے رہے : اللھم ان العیش عیش الاخیرۃ
فاغفر الانصار والمھاجرہ
یا اللہ اس زندگی تو آخرت کی زندگی ہے مہاجرین و انصار کی مغفرت فرما۔
اتنے میں عمار بن یاسر (رض) آپ کے پاس سے گرزے آپ نے عمار (رض) کے سر سے مٹی جھاڑنا شروع کردی اور فرمایا : اے ابن سمیہ ! تجھ پر افسوس ہے ! تجھے باغی گروہ قتل کرے گا۔ (رواہ ابن عساکر)