37431- عن الزهري قال: لما كان يوم فتح مكة أتي بأبي قحافة إلى النبي صلى الله عليه وسلم وكأن رأسه ثغامة بيضاء، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هلا أقررتم الشيخ في بيته حتى كنا نأتيه تكرمة لأبي بكر! وأمر بأن يغيروا شعره، وبايعه، وأتى المدينة وبقي حتى أدرك خلافة أبي بكر، ومات أبو بكر قبله وورثه أبو قحافة السدس فرده على ولد أبي بكر، وكانت وفاته سنة أربع عشرة في خلافة عمر بن الخطاب وله يومئذ سبع وتسعون سنة. "عب".
٣٧٤٣٠۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن جب ابوقحافہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے گئے ان کا سر سفید پھول کی مانند تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے بوڑھے بزرگ کو اس کے گھر میں کیوں ٹھہرنے دیا تاکہ ہم ابوبکر کی عظمت و اکرام کی خاطر خود آجائے آپ نے حکم دیا کہ اس کے بالوں کا رنگ تبدیل کردو پھر آپ نے ابوقحافہ (رض) سے بیعت لے لی۔ ابوقحافہ مدینہ آئے حتیٰ کہ ابوبکر (رض) کے دور خلافت کو پایا ہے جب کہ ابوبکر (رض) ان سے پہلے وفات پاگئے ابوبکر (رض) کے مال میں سے چھٹے حصہ کے وارث بنے جو انھوں نے ابوبکر (رض) کی اولاد کو واپس دے دیا۔ ابوقحافہ (رض) نے حضرت عمر (رض) کے دور خلاف میں ١٤ ھ میں وفات پائی اس وقت ان کی عمر ستانوے (٩٧) سال تھی۔ (رواہ عبدالرزق)