37436- "مسند علقمة البلوي" عن علقمة بن رمثة قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عمرو بن العاص إلى البحرين، ثم خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية وخرجنا معه، فنعس رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم استيقظ فقال: رحم الله عمروا! فتذاكرنا كل إنسان اسمه عمرو، ثم نعس ثانية ثم استيقظ فقال: رحم الله عمروا! فقلنا: من عمرو يا رسول الله؟ قال: عمرو بن العاص، قالوا: ما باله؟ قال ذكرته أني كنت إذا ندبت الناس للصدقة جاء من الصدقة فأجزل، فأقول له: من أين لك هذا يا عمرو؟ فيقول: من عند الله، وصدق عمرو. إن لعمرو عند الله خيرا كثيرا. يعقوب بن سفيان وابن منده، "كر" والديلمي وسنده صحيح.
٣٧٤٣٥۔۔۔” مسند عقلمہ بلوی “ علقمہ بن رمشہ کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمروبن العاص (رض) کو بحرین بھیجا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی ایک سریہ کے ساتھ چل پڑے ہم بھی آپ کے ہمراہ تھے چانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھ لگ گئی اور پھر بیدار ہوگئے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم فرمائے : ہم آپس میں مذاکرہ کرنے لگے کہ عمرو کس کا نام ہے۔ ایک بار پھر آپ کی آنکھ لگ گئی اور پھر بیدار ہوئے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم فرمائے ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمروکون ہے ؟ آپ نے فرمایا : عمروبن العاص۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا : ان کا کیا حال ہے ؟ میں نے عمرو کو اس کیے یاد کیا ہے کہ جب بھی میں نے صدقہ لانے کا اعلان کیا عمرو نے صدقات دینے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ میں عمرو سے کہتا اے عمرو ! یہ کہاں سے لے آئے ہو ؟ وہ کہتا : اللہ تعالیٰ کے پاس سے لایا ہوں ۔ عمرو نے سچ کہا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عمرو کیلئے بہت خیروبھلائی ہے۔ (رواہ یعقوب بن سفیان وابن مندہ وابن و عساکر والدیلمی وسندہ صحیح)