37440- "مسند عمر" عن عبد الواحد بن أبي عون الدوسي قال: رجع الطفيل بن عمرو إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان معه بالمدينة حتى قبض، فلما ارتدت العرب خرج من المسلمين فجاهد حتى فرغوا من طليحة وأرض نجد كلها ثم سار مع المسلمين إلى اليمامة ومعه ابنه عمرو ابن الطفيل فقتل الطفيل باليمامة شهيدا وجرح ابنه عمرو بن الطفيل وقطعت يده ثم استبل وصحت يده فبينا هو عند عمر بن الخطاب إذ أتي بطعام فتنحى عنه، فقال عمر: ما لك؟ لعلك تنحيت لمكان يدك، قال: أجل، قال لا والله لا أذوقه حتى تسوطه بيدك، ففعل ذلك فوالله ما في القوم أحد بعضه في الجنة غيرك، ثم خرج عام اليرموك في خلافة عمر بن الخطاب مع المسلمين فقتل شهيدا."ابن سعد، كر".
٣٧٤٣٩۔۔۔” مسند عمر “ عبدالواحدبن ابی عون دوسی کہتے ہیں : حضرت طفیل بن عمرو (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مدینہ ہی میں آپ کے ساتھ ٹھہرگئے حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کو پیارے ہوگئے آپ کی رحلت کے بعد عرب مرتد ہوگئے طفیل (رض) مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو کر جہاد کے لیے روانہ ہوئے حتیٰ کہ طلیحہ اور سرزمین نجد سے فارغ ہوئے پھر مسلمانوں کے ساتھ یمامہ کی طرف روانہ ہوئے ان کے ساتھ ان کا بیٹا عمروبن طفیل (رض) بھی تھا چنانچہ جنگ یمامہ میں طفیل (رض) شہید ہوئے اور ان کا بیٹا عمروبن طفیل (رض) زخمی ہوا ان کا ہاتھ کٹ گیا اور بری طرح متاثر ہوا بعد میں ہاتھ صحیح ہوگیا : چنانچہ ایک مرتبہ عمروبن طفیل (رض) حضرت عمربن خطاب (رض) کے پاس تھے اتنے میں کھانا لایا گیا عمرو (رض) اس سے الگ حضرت عمر (رض) الگ ہوجانے کی وجہ دریافت کی اور فرمایا : کیا تم اپنے ہاتھ کی وجہ سے الگ ہوگئے ہو عرض کیا : جی ہاں عمر (رض) نے فرمایا : بخدا میں کھانا چھکوں گا بھی نہیں جب تک تم اپنے پاتھ سے کھاؤ گے نہیں عمرو (رض) نے کھانا شروع کیا : عمر (رض) نے فرمایا : بخدا ! قوم میں ایسا کوئی شخص نہیں جس کے بدن کا کچھ حصہ جنت میں پہنچ گیا ہو بجز تمہارے پھر عمرو (رض) نے حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں جنگ یرموک میں حصہ لیا اور اسی میں شہید ہوئے۔ (رواہ ابن سعد وابن عساکر)