hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37473

.

كنز العمال

37473
Kanz al-Ummal
37463- "مسند أبي هريرة" أنبأنا هشام بن حسان عن محمد عن أبي هريرة قال: كنا عنده وعليه ثوبان ممشقان فتمخط ثم مسح أنفه بثوبه ثم قال: الحمد الله يتمخط أبو هريرة في الكتان، لقد رأيتني وأ؟؟؟ ي لأخر فيما بين منبر النبي صلى الله عليه وسلم وحجرة عائشة مغشيا علي من الجوع فيجيء الرجل فيقعد على صدري فأقول: ليس بي ذاك إنما هو من الجوع، وقال: إني كنت أجيرا لابن عفان وابنة غزوان على عقيبة رجلي وشبع بطني أخدمهم إذا نزلوا وأسوق بهم إذا ارتحلوا ، فقالت يوما : لتركبنه قائما ولتردنه حافيا ، فزوجنيها الله بعد فقلت لتردنه حافيا ولتركبنه وهو قائم ! قال : وكانت في أبي هريرة مزاحة (عب).
٣٧٤٦٢۔۔۔” مسند ابوہریرہ “ ہشام بن حسان محمد کی سند سے حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے محمد کہتے ہیں : ہم حضرت ابوہریرہ (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور انھوں نے کتان کے باریک دو کپڑے پہن رکھے تھے پھر انھوں نے ایک اور کپڑے سے ناک صاف کی اور فرمایا : تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے ابوہریرہ کو کتان کے کپڑے سے ناک صاف کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ مجھے یاد ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منبر اور عائشہ (رض) کے حجرے کے درمیان غشی طاری ہوجانے کی وجہ سے گرجاتا تھا غشی مجھے بھوک کی وجہ سے طاری ہوتی تھی چنانچہ کوئی شخص میرے سینے پر چڑھ کر بیٹھ جاتا میں کہتا : مجھے مرگی نہیں بلکہ یہ بھوک کی وجہ سے ہے۔ ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : میں ابن عفان اور بنت غزوان کا مزدور ہوتا تھا میری مزدوری صرف یہ تھی کہ میں نوبت بہ نوبت اونٹ پر سواری کروں گا اور پیٹ بھر کر کھانا کھاؤں گا جب وہ کسی جگہ اترتے میں ان کی خدمت کرتا اور جب کوچ کرتے میں ان کی سواریاں پیچھے سے ہنکاتا تھا ایک دن بنت غزوان بولی : تم اسے کھڑے کھڑے سوار کرو اور ننگے پاؤں ساتھ چلو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بنت غزوان سے میری شادی کرادی میں نے یہ بات اسے یاد کرائی محمد کہتے ہیں : ابوہریرہ (رض) مزاح بھی کرتے تھے۔ (رواہ عبدالرزاق)