hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37495

.

كنز العمال

37495
Kanz al-Ummal
37485- عن عبد الرحمن بن عابس النخعي عن قيس بن كعب قيس بن أبي حازم واسمه عوف ويقال له عوف ابن عبد الحارث البجلي الأحمسي رضي الله عنه قال ابن عساكر: أدرك النبي صلى الله عليه وسلم ولم يره، وقيل: إنه رآه ولأبيه صحبة.
٣٧٤٨٤۔۔۔ عبدالرحمن بن عابس نحغی قیس بن کعب سے روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ وفد کی شکل میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قیس (رض) کے ساتھ ان کا بھائی ارطاۃ بن کعب (رض) اور ارقم (رض) بھی تھے یہ دونوں حضرات اپنے زمانہ کے حسین ترین لوگوں میں سے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں بلا کی قوت گویائی عطا کر رکھی تھی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کو دعوت السام دی انھوں نے اسلام قبول کرلیا اور آپ نے ان کے لیے دعائے خیر کی اور ارطات (رض) کے لیے نوشۃ تحریر کیا اور انھیں ایک جھنڈا بھی عطا کیا۔ چنانچہ حضرت ارطات (رض) یہی جھنڈٖا لے کر جنگ قادسیہ میں شریک ہوئے تھے۔ (رواہ ابن شاھین بسند ضعیف) حضرت قیس بن ابی حازم بجلی احمسی (رض)
اس کا نام عوف ہے انھیں عوف بن الحارث بھی کہا جاتا ہے۔ ابن عساکر کہتے ہیں : انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پایا ہے لیکن آپ کا دیدار نہیں ہوسکا بعض کہتے ہیں قیس (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے البتہ ان کے والد کو صحبت کا شرف حاصل ہوا ہے۔