hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37517

.

كنز العمال

37517
Kanz al-Ummal
37506 (مسند عمر) عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب بعث معاذا ساعيا على بني كلاب فقسم فيهم حتى لم يدع شيئا حتى جاء بحلسه الذي خرج به يحمله على رقبته ، فقالت له امرأته : أين ما جئت به مما يأتي به العمال عراضة أهليهم ؟ فقال : كان معي ضاغط ، فقالت : قد كنت أمينا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر فبعث عمر عمك ضاغطا ! فقامت بذلك في نسائهاواشتكت عمر ، فبلغ ذلك عمر فدعا معاذا فقال : أنا بعثت معك ضاغطا ؟ فقال : لم أجد شيئا أعتذر به إليها إلا ذلك ، فضحك عمر وأعطاه شيئا فقال : أرضها به. قال ابن جرير : قول معاذ : الضاغط ، يريد به ربه عزوجل (عب والمحاملي في أماليه).
٣٧٥٠٦۔۔۔” مسند عمر “ سعید بن مسیب کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت معاذ (رض) کو نبی کلاب سے وصولی صدقات کے لیے بھیجا چنانچہ معاذ (رض) نے کوئی چیز نہ چھوڑی حتیٰ کہ وہ کمبل جو ساتھ لیتے گئے تھے اسے بھی اپنے کاندھوں پر اٹھا کرلیتے آئے معاذ (رض) کی بیوی نے ان سے کہا : تم کہاں سے آرہے ہیں عاملین جو چیز لاتے ہیں پہلے اپنے گھر والوں کو پیش کرتے ہیں ؟ معاذ (رض) نے کہا میرے ساتھ ضاعط (نگہبان تھا) بیوی بولی ! تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے ہاں امانتدار سمجھے جاتے تھے جبکہ عمر نے تمہارے ساتھ ضاعط “ کو بھی بھیج دیا معاذ (رض) کی بیوی عورتوں میں کھڑی ہوئی اور حضرت عمر (رض) سے شکایت کردی حضرت عمر (رض) نے معاذ (رض) کو بلایا اور کہا : کیا میں نے تمہارے ساتھ ضاعط بھیجا تھا معاذ (رض) نے کہا : میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی عذر نہیں تھا جسے میں اپنی بیوی کے سامنے ظاہر کرسکتا۔ حضرت عمر (رض) ہنس پڑے اور کوئی چیز دے کر فرمایا ! یہ پیتے جاؤ اور اس سے اپنی بیوی کو راضی کرلو۔ ابن جریر کہتے ہیں : معاذ (رض) نے جو ضاعظ کہا اس کا معنی نگہبان ہے اور ان کی مراد اللہ تعالیٰ تھا۔ (رواہ عبدالرزاق والمحاملی فی امالیہ)