37509 عن أبي الاسود قال : دخل معاوية على عائشة فقالت : ما حملك على قتل أهل عذراء حجر وأصحابه ؟ فقال : يا أم المؤمنين ! إني رأيت قتلهم صلاحا للامة وبقاءهم فسادا للامة ، فقالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : سيقتل بعذراء ناس يغضب الله لهم وأهلالسماء (يعقوب بن سفيان ، كر).
٣٧٥٠٩۔۔۔ ابواسود کہتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت معاویہ (رض) حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے عائشہ (رض) نے فرمایا : تم نے اہل عذراء حجر اور اس کے ساتھیوں کو کیوں قتل کیا ہے ؟ حضرت معاویہ (رض) نے جواب دیا : اے ام المومنین ! میں نے امت کی بہتری کے لیے ان کا قتل روا سمجھا ہے چونکہ ان کے زندہ رہنے سے امت میں فساد پھیلنے کا خدشہ تھا۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے عنقریب عذراء میں لوگوں کو قتل کیا جائے گا ان پر اللہ اور اہل آسمان غضبناک ہیں۔ (رواہ یعقوب بن سفیان وابن عساکر)