37525 عن أبي سعيد أن ماعز بن مالك أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : إني أصبت فاحشة ! فردده مرارا ، فسأل قومه أبه بأس ؟ قيل : ما به بأس ، فأمرنا فانطلقنا به إلى بقيع الغرقد فلم نحفر ولم نوقفه ، فرميناه بجندل وخزف فسعى وابتدرنا خلفه ، فأتى الحرة فانتصب لنا فرميناه بجلاميد حتى سكت (كر).
٣٧٥٢٥۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ماعزبن مالک (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : مجھ سے برائی سرزد ہوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں باربار کردیتے بالآخر آپ نے ماعز (رض) کی قوم سے پوچھا : کیا اسے کوئی بیماری تو ہیں ؟ جواب دیا گیا کہ اسے کوئی بیماری نہیں۔ آپ نے ہمیں رجم کرنے کا حکم دیا ہم ماعز (رض) کو لے کر بقیع غرقد میں چلے گئے ہم نے گھڑاکھودا اور نہ ہی انھیں ایک جگہ کھڑا ہونے پر مجبور کیا۔ ہم نے انھیں چھوٹے چھوٹے پتھر اور ٹھیکریاں ماریں پھر وہ دوڑ پڑے ہم بھی ان کے پیچھے پیچھے ہولیے، چنانچہ وہ مقام صرہ میں آگئے اور کھڑے ہوگئے وہاں ہم نے ان پر بڑے بڑے پتھر برسائے حتیٰ کہ خاموش ہوگئے یعنی اللہ کو پیارے ہوگئے (رواہ ابن عساکر)