37541 عن يعلى بن الاشدق عن النابغة قال : أنشدت النبي صلى الله عليه وسلم وأنا عن يمينه : بلغنا السماء مجدنا وجدودنا * وإنا لنرجو فوق ذلك مظهرا فقال : أين المظهر يا أبا ليلى وفي لفظ : فقال : إلى أين ؟ لا أم لك قلت الجنة فقال : أجل إن شاء الله ، فقلت : ولا خير في علم إذا لم يكن له * بوادر تحمي صفوه أن يكدرا ولا خير في جهل إذا لم يكن له * حليم إذا ما أورد الامر أصدرا فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : أجدت لا يفضض فوك مرتين ، فلقد رأيته بعد عشرين سنة ومائة سنة وإن لاسنانه أشرا كأنه البرد (كر وابن النجار).
٣٧٥٤١۔۔۔ یعلی بن اشدق سے مروی ہے کہ نابغہ (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اشعار سنائے جب کہ میں آپ کی دائیں طرف بیٹھا ہوا تھا۔
بلغنا السماء مجدناوجدودنا
وانالنزجوفوق ذالک مظھرا
ہم اپنی بزرگی و شرافت میں آسمان تک جاپہنچے ہیں اور ہم اس سے بھی کہیں اوپر جانے کی امید رکھتے ہیں آپ نے فرمایا :
اے ابولیلی۔ اس سے اوپر کہاں کا ارادہ ہے ؟ تمہاری ماں تمہیں گم پائے میں نے عرض کیا : جنت میں فرمایا : جی ہاں انشاء اللہ میں نے کہا :
ولاخیرفی علم اذالم یکن لہ
بوادرتحمی صفوہ ان یکدرا
ولاخیرفی جھل اذالم یکن لہ
حلیم اذا ما اور دالامراصدرا
اس علم میں کوئی خیروبھلائی نہیں جو صاف اور مکدر میں فرق نہ کرسکے اور اس جہالت میں بھی کوئی خیروبھلائی نہیں کا واسطہ کسی بردبار سے نہ پڑے اور وہ معاملہ کو جانچ نہ سکتا ہو۔
رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہت اچھا اللہ تمہیں رسوا نہیں کرے گا۔ یعلی بن اشدق کہتے ہیں میں نے نابغہ (رض) کو دیکھا اس وقت ان کی عمر ایک سو بیس (١٢٠) سال تھی کہ ان کے منہ میں دانت نولی کے تھے اور یوں لگتے تھے جیسا کہ اولے ہوں۔ (رواہ ابن عساکر وابن النجار)