37564 عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك قال : كنت قائد أبي حين ذهب بصره فكنت إذا خرجت معه الجمعة فسمع التأذين استغفر لابي أمامة أسعد بن زرارة ودعا له ، فقلت له : يا أبت ! ما شأنك إذا سمعت التأذين استغفرت لابي أمامة ودعوت له وصليت عليه ؟ قال : أي بني ! إنه كان أول من جمع بنا قبل قدوم النبي صلى الله عليه وسلم في نقيع الخضمات في حرة بني ، بياضة قلت : وكم كنتم يومئذ ؟ قال : كنا أربعين رجلا (ش ، طب وأبو نعيم في المعرفة).
٣٧٥٦٤۔۔۔ عبدالرحمن بن کعب بن مالک کہتے ہیں جب میرے والد محترم (رض) کی بصارت جاتی رہی میں ان کا ہاتھ کر انھیں چلاتا تھا چنانچہ جمعہ کے دن نماز کے لیے جب وہ باہر جاتے اور اذان سنتے تو ابوامامہ اسعد بن زرارہ (رض) کے لیے استغفار کرتے اور ان کے لیے دعائیں کرتے میں نے پوچھا : اباجان ! آپ جب اذان سنتے ہیں ابوامامہ (رض) کے لیے استغفار کرتے ہیں ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور ان پر نزول رحمت کی دعا کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا : اے بیٹے ! یہ وہ پہلا شخص ہے جس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد سے قبل ہمیں نفیع الخضمات میں حرہ بیاضہ میں جمع کیا تھا۔ (اور جمعہ کا اہتمام کیا تھا) میں نے پوچھا : اس وقت آپ کی تعداد کتنی تھی ؟ فرمایا : ہم چالیس آدمی تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ والطبرانی و ابونعیم فی المعرفۃ)