hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37578

.

كنز العمال

37578
Kanz al-Ummal
37566 عن معاوية قال : خرج أبو سفيان إلى بادية له مردفا هندا وخرجت أسير أمامهما وأنا غلام على حمارة لي إذ سمعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال أبو سفيان : أنزل يا معاوية حتى يركب محمد ، فنزلت عن الحمارة وركبها رسول الله صلى الله عليه وسلم. فسار أمامنا هنيهة ثم التفت إلينا فقال : يا أبا سفيان بن حرب ! ويا هند ابنة عتبة ! والله لتموتن ثم لتبعثن ثم ليدخلن المحسن الجنة والمسئ النار ! وأنا أقول لكم بحق ، وإنكم لاول من أنذر ، ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم (حم.تنزيل من الرحمن الرحيم) حتى بلغا (قالتا أتينا طائعين) فقال أبو سفيان : أفرغت يا محمد ؟ قال : نعم ، ونزل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحمارة وركبتها ، وأقبلت هند على أبي سفيان فقالت : ألهذا الساحر الكذاب أنزلت ابني ؟ قال : لا والله ! ما هو بساحر ولا كذاب (كر).
٣٧٥٦٦۔۔۔ حضرت معاویہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ابوسفیان (رض) گدھے پر سوار ہو کر جنگل کی طرف نکلے انھوں نے اپنے پیچھے (اپنی بیوی) ہندکو سوار کرلی میں کمسن لڑکا تھا اور میں اپنی گدھی پر سوار ہو کر ان کے آگے آگے چلنے لگا اچانک ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سنی ابوسفیان (رض) بولے : اے معاویہ (رض) نیچے اترو تاکہ محمد سوار ہوجائے۔ میں گدھی سے نیچے اتر آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوگئے آپ آرام آرام سے ہمارے آگے چلنے لگے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اے ابوسفیان (رض) بن حرب ! اے ھندبنت عتبہ ! اللہ کی قسم تم نے ضرور مرنا ہے اور پھر تم دوبارہ زندہ کیے جاؤگے پھر تم میں سے جو نیکوکار ہوگا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا اور جو بدکار ہوگا وہ دوزخ میں چلا جائے گا۔ میں نے جو کچھ تم سے کہا ہے دوسرا سر حق ہے تم پہلے ہو جسے میں ڈرسنا رہا ہو۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیات تلاوت فرمائیں ۔” حم تنزیل من الرحمن الرحیم۔۔۔ سے اتینا طائعین “ تک۔ ابوسفیان بولے : اے محمد ! تم نے اپنی بات پوری کرلی ؟ فرمایا : جی ہاں پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری سے نیچے اتر آئے اور میں دوبارہ سوار ہوگیا۔ اتنے میں ھند نے ابوسفیان کی طرف متوجہ ہو کر کہا : تم نے اس جھوٹے جادو گر کے لیے میرا بیٹا سواری سے نیچے اتارا ہے۔ ابوسفیان (رض) نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم ایسی بات نہیں نہ وہ جادو گر ہے اور نہ ہی جھوٹا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)