37570 (مسند أبي أيوب) عن حبيب بن أبي ثابت أن أبا أيوب أتى معاوية فشكا إليه أن عليه دينا ، فلم ير منه ما يحب ورأى ما يكرهه ، فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إنكم سترون بعدي أثرة ! قال : فأي شئ قال لكم ؟ قال : اصبروا ، قال : فاصبروا ، فقال : والله لا أسألك شيئا أبدا ! فقدم البصرة فنزل على ابن عباس ، ففرغ له بيته وقال : لاصنعن بك كما صنعت برسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأمر أهله فخرجوا وقال : لك ما في البيت كله وأعطاه أربعين ألفا وعشرين مملوكا (الروياني ، كر).
٣٧٥٧٠۔۔۔” مسند ابی ایوب “ (رض) حبیب بن ابی ثابت کی روایت ہے کہ حضرت ابوایوب (رض) حضرت معاویہ (رض) کے پاس آئے اور ان سے اپنے اوپر قرض ہونے کا شکایت کی تاہم حضرت معاویہ (رض) کی طرف سے کوئی خاص دلچسپی نہ دیکھی اور وہ بولے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ : میرے بعد عنقریب مال ودلت کی فراوانی دیکھو گے پوچھا : تمہیں کس چیز کا حکم دیا ہے ؟ جواب دیا : صبر کا معاویہ (رض) نے کہا : پس تم بھی صبر کرو ابوایوب (رض) بولے : بخدا ! میں تم سے کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا پھر ابوایوب (رض) بصرہ آئے اور ابن عباس (رض) کے ہاں قیام کیا ابن عباس (رض) نے اپنا گھر خالی کیا اور کہا : میں بھی آپ کے ساتھ اسی طرح کروں گا جس طرح آپ نے (ہجرت کے موقع پر ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا تھا ابن عباس (رض) نے کہا : گھر میں جو کچھ ہے سب تمہارا ہے نیزابن عباس (رض) نے ابوایوب (رض) کو چالیس ہزار درہم اور بیس مملوک بھی دیئے۔ (رواہ الدویانی وابن عساکر)