37573 عن محمد بن أبي طالب بن عبد الرحمن بن يزيد بن المهلب بن أبي صفرة قال : ذكر أبي عن آبائه أن أبا صفرة قدم على النبي صلى الله عليه وسلم على أن يبايعه وعليه حلة صفراء وله ظرف ومنظر وجمال وفصاحة اللسان ، فلما نظر إليه النبي صلى الله عليه وسلم أعجبه جماله وخلقه فقال : من أنت قال : أنا قاطع بن سارق بن ظالم بن عمرو بن مرة بن الهلقام بن الجلند بن المستكبر بن الجلند الذي يأخذ كل سفينة غصبا ! أنا ملك بن ملك ! فقال النبي صلى الله عليه وسلم : أنت أبو صفرة ودع عنك سارقا وظالما ، فقال : اشهد أن لا إله إلا الله وأنك عبده ورسوله حقا ، وإني لي لثمانية عشر ذكرا ، وقد رزقت بآخرة بنتا فسميتها صفرة (الديلمي).
٣٧٥٧٣۔۔۔ محمد بن ابی طالب بن عبدالرحمن بن یزید بن مہلب بن ابی صفرہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے اپنے آباؤ اجداد سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابوصفرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کریں ابوصفرہ (رض) نے زرد رنگ کا جوڑا زیب تن کررکھا تھا اللہ تعالیٰ نے انھیں ظرافت حسن و جمال اور فصاحت و بلاغت سے نواز رکھا تھا جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف دیکھا تو ان کا حسن و جمال نہایت دلکش لگا اور فرمایا : تم کون ہو ؟ جواب دیا : میں قاطع (ڈاکو) بن سارق (چور) بن ظالم بن عمروبن مرہ بن ھلقام بن جلندبن متکبربن جلند جو کہ ہر طرخ کی کشتی کو لوٹ لیتا ہے اور میں ملک بن ملک ہوں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سارق و ظالم کو چھوڑو تم ابوصفرہ ہو۔ ابوصفرہ (رض) بولے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میرے اٹھارہ (١٨) بیٹے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے سب سے آخر میں بیٹی عطا فرمائی ہے میں نے اس کا نام صفرہ رکھا ہے۔ (رواہ الدیلمی)