hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37602

.

كنز العمال

37602
Kanz al-Ummal
37589 عن ضمرة بن سعيد قال : أتي عمر بن الخطاب بمروط وكان فيها مرط جيد واسع فقال بعضهم : إن هذا المرط لثمن كذا وكذا ، فلو أرسلت به إلى زوجة عبد الله بن صفية بنت أبي عبيد ! قال وذلك حدثان ما دخلت على ابن عمر ، فقال : أبعث به إلى من هو أحق به منها أم عمارة نسبية بنت كعب ، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يوم احد : ما التفت يمينا ولا شمالا إلا وأنا أراهما تقاتل دوني (ابن سعد وفيه الواقدي).
٣٧٥٨٩۔۔۔ ضمرہ بن سعید کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) کے پاس بہت ساری چادریں لائی گئیں جس میں ایک عمدہ اور کھلی چادر بھی تھی بعض صحابہ (رض) نے کہا : اس چادر کی قیمت اتنی اور اتنی ہے (یعنی یہ چادر بہت قیمتی ہے) یہ چادر عبداللہ کی بیوی صفیہ ابی عبید کو دے دی جائے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ان کی نئی یئی شادی ہوئی ہے میں ابن عمر کے پاس نہیں جاتا لیکن میں یہ چادر ایسی عورت کو بھیجتا ہوں جو اس سے زیادہ حقدار ہے اور وہ ام عمارہ نسبیہ بنت کعب ہے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ میں نے جب بھی دائیں یا بائیں دیکھا میں نے ام عمارہ کو اپنے سامنے لڑتے ہوئے پایا۔ (رواہ ابن سعد وفیہ الواقدی)