(37596) - عن سلامة بنت معقل قالت : قدم بي عمي في الجاهلية فباعني من الحباب بن عمرو فاستسرني ، فولدت له عبد الرحمن بن الحباب فتوفي وترك دينا ، فقالت لي امرأته : الآن والله تباعين يا سلامة في الدين ! فقلت : إن كان الله قضى ذلك علي احتسبت فجئت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته خبري فقال : من صاحب تركة الحباب ؟ قال : أخوه أبو اليسر بن عمرو ، فدعي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أعتقوها ، فإذا سمعتم برقيق قدم علي فأتوني أعوضكم فيها فأعتقوها ، وقدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم رقيق فدعا أبا اليسر فقال : خذ هذا الرقيق غلاما لابن أخيك (أبو نعيم)
٣٧٥٩٦۔۔۔ حضرت سلامہ بنت معقل (رض) کی روایت ہے کہ جاہلیت کے دور میں میرے چچا نے مجھے حاب بن عمرو کے ہاتھ فروخت کردیا۔ اس نے مجھے اپنی کنیز بنالیا اور میں نے اس کا ایک بیٹا عبدالرحمن بن خباب جنم دیا خباب اپنے ذمہ قرض چھوڑ کر مرگیا چنانچہ خباب کی بیوی نے مجھے کہا : اے سلامہ اللہ کی قسم تجھے اب قرض میں فروخت کیا جائے گا میں نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ نے ادائیگی قرض کا بند و بست کرلیا پھر مجھے نہیں بیچا جائے گا چنانچہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو خبر کی آپ نے فرمایا : خباب کے ترکہ کا مالک کون ہےَ جواب دیا خباب کا بھائی ابویسربن عمرو چنانچہ آپ نے ابویسر بلایا اور پھر فرمایا : اسے آزاد کردو جب تم سنو کوئی غلام میرے پاس آیا ہے تو مجھ سے اس کا عوض لے کر آزاد کردو۔ چنانچہ ان لوگوں نے مجھے آزاد کردیا بعد میں ایک غلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا آپ نے ابویسر کو بلایا اور فرمایا : یہ غلام لے لو یہ تمہارے بھائی کے بیٹے کی ملکیت ہے۔ (رواہ ابونعیم)
کلام :۔۔۔ حدیث کا آخری جملہ قابل غور ہے دیکھئے ضعیف : بی داؤد ٨٥١۔