hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37676

.

كنز العمال

37676
Kanz al-Ummal
37666- "مسند علي" عن نجى أنه سار مع علي فلما حاذى نينوى وهو منطلق إلى صفين نادى: اصبر أبا عبد الله! اصبر أبا عبد الله بشط الفرات، قلت: وماذاك: قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم وعيناه تفيضان، قلت: يا نبي الله! أغضبك أحد ما شأن عينيك تفيضان؟ قال بلى، قام من عندي جبريل قبل فحدثني أن الحسين يقتل بشط الفرات، فقال: هل لك إلى أن أشمك من تربته؟ قلت: نعم، فمد يده فقبض قبضة من تراب فأعطانيها. فلم أملك عيني أن فاضتا. "ش، حم، ع، ص".
٣٧٦٦٣۔۔۔” مسند علی “ نجی کی روایت ہے کہ وہ حضرت علی (رض) کے ساتھ سفر میں تھے جب نینویٰ پہنچے فرمایا : اے ابوعبداللہ صبر کرواے ابوعبداللہ فرات کے کنارے صبر کرو حضرت علی (رض) صفین کی طرف جارہے تھے میں نے کہا : اس کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا : ایک مرتبہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ رہی تھیں میں نے عرض کیا : یا نبی اللہ آپ کو کسی نے غصہ دلایا ہے آپ کی آنکھوں سے آنسو کیوں بہہ رہے ہیں ؟ فرمایا : جی ہاں، تھوڑی دیر پہلے میرے پاس سے جبرائیل امین آئے ہیں انھوں نے مجھے حدیث سنائی ہے کہ حسین (رض) فرات کے کنارے قتل کیا جائے گا کیا میں تمہیں وہاں کی مٹی نہ سونگھادوں ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ بھڑایا پھر مٹی اٹھائی اور مجھے دے دی میں اپنی آنکھوں پر قابو نہ پاسکا حتیٰ کہ آنسو بہنے لگے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل
وابو یعلی واسعید بن المنصور)