hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37685

.

كنز العمال

37685
Kanz al-Ummal
37675- عن جعفر بن محمد عن أبيه قال: قدم على عمر حلل من اليمن فكسا الناس فراحوا في الحلل وهو بين القبر والمنبر جالس والناس يأتونه فيسلمون عليه ويدعون له، فخرج الحسن والحسين من بيت أمهما فاطمة يتخطيان الناس وليس عليهما من تلك الحلل شيء وعمر قاطب صار1 بين عينيه، ثم قال والله ما هنأ لي ما كسوتكم! قالوا: يا أمير المؤمنين! كسوت رعيتك فأحسنت قال: من أجل الغلامين يتخطيان الناس وليس عليهما منها شيء، كبرت عنهما وصغرا عنها، ثم كتب إلى اليمن أن ابعث بحلتين لحسن وحسين وعجل، فبعث إليه بحلتين فكساهما."ابن سعد".
٣٧٦٧٢۔۔۔ جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس یمن سے کچھ جوڑے آئے آپ (رض) نے جوڑے لوگوں میں تقسیم کردیئے لوگ نئے نئے جوڑے پہن کر واپس جاتے جب کہ آپ (رض) منبر اور روضہ اور اس کے درمیان تشریف فرما تھے لوگ آتے سلام کرتے آپ کو دعائیں دے کر واپس جاتے اتنے میں حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) اپنی والدہ کے گھر سے باہر نکلے اور لوگوں سے آگے نکل آئے جب کہ انھوں نے یہ جوڑے نہیں پہنے ہوئے تھے حضرت عمر (رض) نے دونوں صاحبزادوں کو اپنے پاس بٹھایا اور پھر درد بھری آواز میں فرمایا اللہ کی قسم میرے پاس جوڑا باقی نہیں رہا جو اس میں آپ کو پہناؤں۔ حسن (رض) و حسین (رض) نے کہا : اے امیرالمؤمین ! آپ نے اپنی رعیت کو جوڑے پہنادیئے بہت اچھا کیا حضرت عمر (رض) نے کہا : دولڑکے جو لوگوں سے آگے نکل آئے اور ان کے پاس کوئی جوڑا نہیں : یہ بڑی گراں بار بات ہوئی پھر آپ نے یمن کے گورنر کو خط لکھا کہ حسن (رض) و حسین (رض) کے لیے جلد ازجلد دو جوڑے بھیجو۔ چنانچہ گورنر یمن نے دوجوڑے بھیجے عمر (رض) نے انھیں پہنچائے۔ (رواہ ابن سعد)