hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37698

.

كنز العمال

37698
Kanz al-Ummal
37688- "أيضا" كنا حول النبي صلى الله عليه وسلم فجاءت أم أيمن فقالت: يا رسول الله! لقد ضل الحسن والحسين وذلك رأد النهار - يقول: ارتفاع النهار - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قوموا فاطلبوا ابني وأخذ كل رجل تجاه وجهه وأخذت نحو النبي صلى الله عليه وسلم، فلم يزل حتى أتى سفح جبل وإذا الحسن والحسين يلتزق كل واحد منهما صاحبه وإذا شجاع1 قائم على ذنبه يخرج من فيه شبه النار، فأسرع إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فالتفت مخاطبا لرسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم إنسان فدخل بعض الأحجرة، ثم أتاهما فأفرق بينهما ومسح وجوهما، وقال: بأبي وأمي أنتما ما أكرمكما على الله! ثم حمل أحدهما على عاتقه الأيمن والآخر على عاتقه الأيسر فقلت: طوبى لكما! نعم المطية مطيتكما! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ونعم الراكبان هما! وأبوهما خير منهما. "طب" عن سلمان.
٣٧٦٨٥۔۔۔” ایضا “ حضرت براء بن عازب (رض) کہتے ہیں : ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ام ایمن (رض) آگئیں اور بولی : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حسن (رض) اور حسین (رض) کہیں گم ہوگئے ہیں یہ لگ بھگ دوپہر کا وقت تھا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) سے فرمایا : کھڑے ہوجاؤ اور میرے بیٹوں کو تلاش کرو چنانچہ ہر شخص کا جس طرف منہ تھا چل پڑا جب کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چل پڑا حتیٰ کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہاڑ کے دامن میں آگئے کیا دیکھتے ہیں کہ حسن (رض) و حسین (رض) ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے ہیں اور سامنے ایک (بڑا) سانپ اپنی دم پر کھڑا ہے اور منہ سے گویا آگ کے شعلے نکال رہا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لی کے اور وہ انسانی شکل میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مخاطب ہوا اور پھر کسی سوراخ میں جاگھسا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کو الگ الگ کیا اور ان کے چہروں پر دست شفقت پھیرا اور فرمایا : میرے ماں باپ تمہارے اوپر قربان جائیں اللہ تعالیٰ عزت عطا فرمائے۔ پھر ایک کو دائیں کاندھے پر اور دوسرے کو بائیں کاندھے پر اٹھایا میں نے عرض کیا : تم دونوں کے لیے خوشخبری ہے تمہاری سواری بہت اچھی سواری ہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور یہ سوار بھی تو بہت اچھے ہیں اور ان کا باپ ان سے افضل ہے۔ (رواہ الطبرانی عن سلمان)