37705- "مسند شداد بن الهاد" دعي رسول الله صلى الله عليه وسلم لصلاة فخرج وهو حامل حسنا أو حسينا فوضعه إلى جنبه فسجد بين ظهراني صلاته سجدة أطال فيها، فرفعت رأسي من بين الناس فإذا الغلام على ظهر رسول الله صلى الله عليه وسلم فأعدت رأسي فسجدت، فلما سلم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له القوم: يا رسول الله! لقد سجدت في صلاتك هذه سجدة ما كنت تسجدها فكان يوحى إليك؟ قال: لا، ولكن ابني ارتحلني فكرهت أن أعجله حتى يقضي حاجته. "ش".
٣٧٧٠٢۔۔۔” مسند شداد بن ھاد “ حضرت شداد بن ھاد (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ عنہ کو نماز کے لیے کہا گیا : آپ باہر تشریف لائے درآن حالیکہ آپ نے حسن (رض) یا حسین (رض) کو اٹھا رکھا تھا آپ نے بڑے کو اپنے قریب بٹھادیا اور آپ نے ایک سجدہ بہت طویل کردیا صحابہ کرام (رض) میں سے صرف میں نے سر اٹھالیا کیا دیکھا ہوں کہ لڑکا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کمرپر چڑھا ہوا ہے میں دوبارہ سجدہ میں چلا گیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرا صحابہ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سجدہ بہت طویل کیا گویا آپ پر وحی نازل ہورہی تھی۔ آپ نے فرمایا : ایسا نہیں لیکن میرا بیٹا میری کمرپر چڑھ گیا تھا میں نے اچھا نہیں سمجھا کہ جلدی کروں حتیٰ کہ یہ اپنا شوق پورا کرے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)