37719- عن طاوس قال قال ابن عباس: جاءني حسين يستشيرني في الخروج إلى العراق فقلت: لولا أن يرزؤا1 بك لشبثت يدي في شعرك، إلى أين تخرج؟ إلى قوم قتلوا أباك وطعنوا أخاك؟ وكان الذي سخى بنفسه عنه أن قال لي: إن هذا الحرم يستحل برجل ولأن أقتل في أرض كذا وكذا أحب إلي من أن أكون أنا هو. "ش".
٣٧٧١٦۔۔۔ طاؤوس کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : حضرت حسین (رض) میرے آئے اور عراق کی طرف خروج کرنے کے متعلق مجھ سے مشورہ لینے لگے میں نے کہا : اگر مجھے اعزہ کی اذیت کا ڈرنہ ہوتا تو میں اپنے ہاتھ تمہارے بالوں میں گھسا دیتا۔ تم کہاں جارہے ہو ؟ ایسی قوم کے پاس جارہے ہو جس نے تمہارے باپ کو قتل کیا تمہارے بھائی کو زخمی کیا : حالانکہ وہ اپنی جان پر کھیل جانے والے تھے حتیٰ کہ انھوں نے مجھے سے یہاں تک کہا ہے : یہ حرم ایک آدمی کی وجہ سے حلال سمجھ لیا جائے گا میں فلاں اور فلاں سرزمین میں قتل کیا جاؤں مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں ہی وہ شخص ہوں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)