37745- "أيضا" عن علياء بن أحمر قال قال علي بن أبي طالب: خطبت إلى النبي صلى الله عليه وسلم ابنته فاطمة، قال: فباع علي درعا له وبعض ما باع من متاعه فبلغ أربعمائة درهما، قال: وأمر النبي صلى الله عليه وسلم أن يجعل ثلثيه في الطيب وثلثا في الثياب، ومج في جرة من ماء فأمرهم أن يغتسلوا به، وأمرها أن لا تسبقه برضاع ولدها فسبقته برضاع الحسين، وأما الحسن فإنه صلى الله عليه وسلم صنع في فيه شيئا لا يدري ما هو، فكان أعلم الرجلين. "ع، ص".
٣٧٧٤٢۔۔۔” ایضا “ علباء بن اصر کی روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی بیٹی فاطمہ (رض) سے نکاح کا پیغام بھیجا حضرت علی (رض) نے اپنی ایک زرہ بیچی اور کچھ اپنا سامان بیجا۔ اس سب کی قیمت ٤٠٠ درہم تک پہنچی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ دو تہائی رقم خوشبو میں خرچ کرو اور ایک تہائی کپڑوں پر خرچ کرو۔ ایک مٹکے میں پانی پھروادیا اور اسی سے غسل کرنے کی ہدایت فرمائی حضرت فاطمہ (رض) کو حکم دیا کہ اپنے بچے کو دودھ پلانے میں جلدی نہیں کرنی لیکن حضرت حسین (رض) کو دودھ پلانے میں جلدی کردی وہی بات حضرت حسن (رض) کی سو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے منہ میں پہلے کوئی چیز۔ (لعاب یا کھجور وغیرہ) ڈالی چنانچہ حسن (رض) علم میں زیادہ فائق تھے۔ (رواہ ابویعلی و سعید بن المنصور)