37754- عن علي قال: خطبت فاطمة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت لي مولاة لي هل علمت أن فاطمة خطبت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قلت: لا، قالت: خطبت، فما يمنعك أن تأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فيزوجك؟ فقلت: وعندي شيء أتزوج به؟ فقالت: إنك إن جئت رسول الله صلى الله عليه وسلم زوجك، فوالله مازالت ترجيني حتى دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان لرسول الله صلى الله عليه وسلم جلالة وهيبة! فلما قعدت بين يديه أفحمت، فوالله ما استطعت أن أتكلم! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ماجاء بك؟ ألك حاجة؟ فسكت، فقال: ما جاء بك؟ ألك حاجة؟ فسكت، فقال: لعلك جئت تخطب فاطمة؟ فقلت: نعم، فقال: وهل عندك من شيء تستحلها به؟ فقلت: لا والله يا رسول الله! فقال: ما فعلت درع سلحتكها؟ فوالذي نفس علي بيده! إنها لحطيمة، ما ثمنها أربعمائة درهم، فقال: قد زوجتك، فابعث بها إليها تستحلها بها، فإن كانت لصداق فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم."ق" في الدلائل والدولابي في الذرية الطاهرة.
٣٧٧٥١۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فاطمہ (رض) سے نکاح کے لیے پیغام بھیجنا چاہا تو میری آزاد کردہ باندی نے کہا کیا تمہیں معلوم ہے کہ فاطمہ (رض) کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیغامات مل رہے ہیں ؟ میں نے کہا : مجھے معلوم نہیں وہ بولیں : فاطمہ (رض) کے لیے پیغام نکاح بھیجا جارہا ہے بھلا تمہیں کس چیز نے روکا ہے تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کیوں نہیں جاتے وہ تمہاری شادی کرادیں گے میں نے کہا : بھلا میرے پاس کوئی چیز ہے جو میں شادی کروں ؟ باندی نے کہا : اگر تم جاؤگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری شادی کرادیں گے بخدا وہ مجھے مسلسل ترغیب دیتی رہی۔ بالآخر میں جرات کرکے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں جلال اور رعب تھا جب میں آپ کے سامنے بیٹھ کیا میں نے چپ سادھ کی بخدا بات کرنے کا مجھ سے جسارت نہ ہوسکی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیوں آئے ہو کیا تمہیں کوئی کام ہے ؟ میں خاموش رہا آپ نے پھر فرمایا : کیوں آئے ہو کیا تمہیں کوئی کام ہے ؟ میں پھر خاموش رہا فرمایا : شاید تم فاطمہ (رض) کے لیے پیغام نکاح لائے ہو میں نے عرض کیا : جی ہاں فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے جسے تم مہر دے کر اسے اپنے لیے حلال کرو ؟ میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بخدا میرے پاس کچھ نہیں فرمایا : وہ زرہ کہاں ہوئی جو میں نے تمہیں بندھوائی تھی قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں علی کی جان ہے وہ حطمی زرہ ہے اس کی قیمت ٤٠٠ درہم ہے فرمایا : میں نے تمہاری شادی کردی وہ زرہ فاطمہ (رض) کو بھیجوادوتا کہ اس کے ذریعے تم اسے اپنے لیے حلال لوبلاشبہ وہی زرہ فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مہر تھی۔ (رواہ البیھقی دی الدلائل والدولد بی فی الذریۃ الطاھرۃ)