37787- عن عائشة قالت: إن من نعم الله علي أن الله تبارك وتعالى أمات رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي وفي يومي وبين سحري ونحري، وأن الله جمع بين ريقي وريقه، دخل علي عبد الرحمن بن أبي بكر ومعه سواك يستن به، فرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم ينظر إليه، فقلت: يا عبد الرحمن! السواك ناولنيه فقضمه ثم ناولنيه، فمضغته حتى إذا لان ناولته النبي صلى الله عليه وسلم فاستن به فذهب يرفعه فلم تصل إليه يده وشخص بصره وقال: اللهم! ألحقني بالرفيق الأعلى. "ع، كر".
٣٧٧٨٤۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بہت افا ات کیے ہیں من جملہ ان سے یہ بھی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے حجرہ میں اور میری گود میں وفات پائی کہ اللہ تعالیٰ نے میرا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لعاب جمع فرمایا : چنانچہ عبدالرحمن بن ابی بکر میرے پاس آیا اس کے ہاتھ میں مسواک تھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف دیکھنے لگے میں نے عبدالرحمن سے کہا مسواک مجھے دوعبدالرحمن (رض) نے مسواک توڑ کر مجھے تھما دی میں نے اپنے منہ میں مسواک چپائی اور جب نرم ہوگئی میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دے دی آپ مسواک کرنے لگے آپ مسواک اوپر اٹھاتے ہاتھ نہ پہنچ پاتا اور آپ کی آنکھوں میں ٹکٹکی بندھ گئی اور آپ نے فرمایا : یا اللہ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملالے۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)