hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37803

.

كنز العمال

37803
Kanz al-Ummal
37793- عن أم سلمة أنها لما قدمت المدينة أخبرتهم أنها ابنة أبي أمية بن المغيرة فكذبوها حتى أنشأ أناس منهم الحج فقالوا: تكتبين إلى أهلك فكتبت معهم، فرجعوا إلى المدينة يصدقونها فازدادت عليهم كرامة، قالت: فلما وضعت زينب جاءني النبي صلى الله عليه وسلم فخطبني فقلت: مثلي تنكح؟ أما أنا فلا، ولد في وأنا غيور ذات عيال، قال: أنا أكبر منك، وأما الغيرة فيذهبها الله، وأما العيال فإلى الله وإلى رسوله، فتزوجها رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل يأتيها فيقول: أين زناب؟ حتى جاء عمار فاختلجها فقال: هذه تمنع رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت ترضعها، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أين زناب؟ فقالت قريبة بنت أبي أمية وافقتها عندها: أخذها ابن ياسر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إني آتيكم الليلة، فوضعت ثفالى1 فأجت حبات من شعير كانت في جرتي وأخرجت شحما فعصدت له، فبات ثم أصبح فقال حين أصبح: إن لك على أهلك كرامة! إن شئت سبعت لك، وإن أسبع لك أسبع لنسائي. "كر".
٣٧٧٩٠۔۔۔ ام سلمہ (رض) کی روایت ہے کہ جب وہ مدینہ آئیں تو انھوں نے اہل مدینہ کو خبر کی کہ میں ابوامیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہوں لوگوں نے انھیں جھٹلادیا حتیٰ کہ لوگ حج کی تیاری میں مصروف ہوگئے اور لوگوں نے حضرت ام سلمہ (رض) سے کہا اپنے گھر والوں کو خط لکھو چنانچہ ام سلمہ (رض) نے خط لکھ بھیجا جب لوگ مدینہ واپس آئے تو ام سلمہ (رض) کی تصدیق کردی اور ان کا زیادہ احترام و اکرام کرنے لگے ام سلمہ (رض) کہتی ہیں جب میں نے زینب کو جنم دیا میرے پاس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لائے اور مجھے پیغام نکاح دیا میں نے عرض کیا : مجھ جیسی عورت سے نکاح کیا جائے گا ؟ سو فی الحال نکاح کرنے کا میرا ارادہ نہیں ہے میں عیالدار عورت ہوں اور میں ہوں بھی غیرت مند عورت۔ آپ نے فرمایا : میں تجھ سے بڑا ہوں۔ رہی اس قسم کی غیرت سوا اللہ تعالیٰ اسے ختم کردے گا رہی بات عیال کی وہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد ہے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام سلمی (رض) سے شادی کرلی اور آپ نے ام سلمہ (رض) کے پاس آنا شروع کردیا اور فرماتے زینب (رض) کہاں ہے ؟ حتیٰ کہ عمار (رض) آئے اور بولے : یہ لڑکی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے رکاوٹ بنی ہوئی ہے چونکہ ام سلمہ (رض) اسے دودھ پلاتی تھیں۔ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور پوچھا : زینب (رض) کہاں ہے ؟ ام سلمہ (رض) نے کہا : میں نے اسے بنت ابی امیہ کے پاس بھیج دیا ہے اور ابن یاسر نے اسے لے لیا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں آج رات تمہارے پاس آؤں گا ام سلمہ (رض) کہتی ہیں میں نے چکی کے نیچے چمڑہ بچھایا اور کچھ جو پیسے جو میرے تھیلے میں پڑے ہوئے تھے کچھ چربی لی اور اس سے کھانا تیار کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے یہاں رات بسر کی جب صبح ہوئی آپ نے فرمایا : بلاشبہ تمہاری تمہارے خاندان والوں کے ہاں عزت و احترام ہے اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں سات دن بسر کروں اور پھر دوسری بیویوں کے ہاں بھی سات دن بسر کروں گا۔ (رواہ ابن عساکر)