hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37805

.

كنز العمال

37805
Kanz al-Ummal
37795- عن نافع وغيره أن الرجال والنساء كانوا يخرجون بهم سواء، فلما ماتت زينب بنت جحش أمر عمر مناديا ينادي: ألا! لا يخرج على زينب إلا ذو محرم من أهلها، فقالت ابنة عميس: يا أمير المؤمنين! ألا أريك شيئا رأيت الحبشة تصنعه لنسائكا فجعلت نعشا وغشته ثوبا، فلما نظر إليه قال: ما أحسن هذا! ما أستر هذا! فأمر مناديا فنادى أن اخرجوا على أمكم. ابن سعد.
٣٧٧٩٢۔۔۔ نافع وغیرہ کی روایت ہے کہ پہلے مردوزن برابر جنازے پر حاضر ہوتے تھے جب زینب بنت جحش (رض) نے وفات پائی حضرت عمر (رض) نے منادی سے اعلان کرایا کہ زینب (رض) کے جنازہ پر صرف ان کا محرم ہی حاضر ہو چنانچہ حضرت اسماء بنت عمیس (رض) نے کہا : اے امیر المومنین ! میں آپ کو ایک چیز دکھاتی ہوں جو میں نے حبشیوں کو اپنی عورتوں کے لیے کرتے دیکھا ہے چنانچہ (کمس وغیرہ سے) نعش بنائی اور اس پر کپڑا ڈال کرا سے ڈھانپ دیا جب حضرت عمر (رض) نے اس کی طرف دیکھا فرمایا : یہ تو بہت اچھی چیز ہے اور اس سے ستر بھی زیادہ ہوجاتا ہے پھر آپ نے منادی کا حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کرو کہ اپنی ماں کے جنازہ میں شریک ہوجاؤ۔ (رواہ ابن سعد)