hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37807

.

كنز العمال

37807
Kanz al-Ummal
37797- عن القاسم بن عبد الرحمن قال: لما توفيت زينب بنت جحش وكانت أول نساء النبي صلى الله عليه وسلم لحوقا به فلما حملت إلى قبرها قام عمر إلى قبرها فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: إني أرسلت إلى النسوة - يعني أزواج النبي صلى الله عليه وسلم - حين مرضت هذه المرأة أن من يمرضها ويقوم عليها؟ فأرسلن: نحن، فرأيت أن قد صدقن، ثم أرسلت إليهن حين قبضت: من يغسلها ويحنطها ويكفنها؟ فأرسلن: نحن، فرأيت أن قد صدقن، ثم أرسلت إليهن: من يدخلها قبرها؟ فأرسلن: من كان يحل له الولوج عليها في حياتها فرأيت أن صدقن، فاعتزلوا أيها الناس! فنحاهم عن قبرها ثم أخلها رجلان من أهل بيتها."ابن سعد".
٣٧٧٩٣۔۔۔ قاسم بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ جب ان کا جنازہ قبر کے پاس لایا گیا حضرت عمر (رض) قبر کے پاس کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا جب یہ بیمار ہوئی تو میں نے ازواج مطہرات کے پاس پیغام بھجوایا کہ کون ان کی تیمارداری کرے گا ؟ ازواج مطہرات نے کہا : ہم کریں گی میرے خیال میں انھوں نے تیمارداری کا حق ادا کردیا پھر جب ان کی وفات ہوگئی تو میں ازواج مطہرات کے پاس پیغام بھیجا کہ کون ان کی تجہیز وتکفین کرے گا ؟ انھوں نے کہا : ہم کریں گے یقیناً انھوں نے حق ادا کیا ہوگا پھر میں نے پیغام بھیجوایا کون ان کو قبر میں اتارے گا انھوں نے کہا : جس کو ان کے پاس کی زندگی میں آنا جانا حلال تھا میرا خیال ہے کہ اس میں بھی انھوں نے سچ اور حق کہا ہے لہٰذا ! اے لوگو ! تم سب یہاں سے ہٹ جاؤ پھر آپ نے لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیا اور زینب (رض) کے گھر والوں میں سے دو شخص انھیں قبر میں اتارنے کیلئے اترے (رواہ ابن سعد)