37801- عن عبد الله بن أبي سليط قال: رأيت أبا أحمد بن جحش يحمل سرير زينب بنت جحش وهو مكفوف وهو يبكي فأسمع عمر وهو يقول: يا أبا أحمد! تنح عن السرير، لا يغشينك الناس - وازدحموا على سريرها، فقال: أبو أحمد: يا عمر! هذه التي نلنا بها كل خير، وإن هذا يبرد حر ما أجد، فقال عمر: الزم الزم."ابن سعد"
٣٧٧٩٨۔۔۔ عبداللہ بن ابی سلیط سے مروی ہے کہ میں نے ابواحمد بن جحش کو دیکھا کہ وہ حضرت زینب بنت جحش کی چارہائی کو اٹھائی ہوئے ہیں اور وہ رورہا ہے اور لوگوں کے لیے رکاوٹ بن رہا ہے حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اس سے فرمایا : اے ابواحمد ! چارپائی سے ہٹ جاؤ اور لوگوں کے لیے رکاوٹ نہ بنو لوگوں نے چارپائی پر بھیڑ کرلی تھی ابواحمد نے کہا : اے عمر، یہ وہ خاتون ہے کہ جس کے ذریعہ ہم نے خیر پائی ہے لہٰذا جس قدر مجھ سے ہوسکے گا ا میں اس عمل سے اپنی گرمی کو ٹھنڈک پہچاؤں گا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ (رواہ ابن سعد)