37809- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يغير حتى يصبح فيسمع فإن سمع أذانا أمسك، وإن لم يسمع أذانا أغار، فأتى خيبر وقد خرجوا من حصونهم فتفرقوا في أرضهم معهم مكاتلهم وفؤوسهم ومرودهم، فلما رأوه قالوا: محمد والخميس! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الله أكبر! خربت خيبر، إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين، فقاتلهم حتى فتح الله عليه، فقسم الغنائم فوقعت صفية في سهم دحية الكلبي، فقيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم: إنه قد وقعت جارية جميلة في سهم دحية الكلبي! فاشتراها رسول الله صلى الله عليه وسلم بسبعة رؤوس فبعث بها إلى أم سليم تصلحها ولا أعلم إلا أنه قال: وتعتد عندها، فلما أراد الشخوص قال الناس: ما ندري اتخذها سرية أو تزوجها، فلما ركب سترها وأردفها خلفه فأقبلوا حتى إذا دنوا من المدينة أوضعوا1 وكذلك كانوا يصنعون إذا رجعوا فدنوا من المدينة فعثرت ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم فسقط وسقطت، ونساء النبي صلى الله عليه وسلم ينظرون مسرفات فقلن: أبعد الله اليهودية وأسحقها فسترها وحملها. "ش".
٣٧٨٠٦۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی قوم پر صبح ہونے سے پہلے حملہ آورنہ ہوتے جب صبح ہوجاتی اگر اذان سنتے تو حملہ کرنے سے رک جاتے اور اگر اذان کی آواز نہ سنتے حملہ کردیتے آپ خیبر تشریف لائے جب کہ اہل خیبر اپنے قلعوں سے باہر نکل آئے تھے اور اپنے کام کاج کے لیے کھیتوں میں متفرق ہوئے تھے ان کے ساتھ ان کے لڑکے ٹوکرے اور کلہاڑے وغیرہ بھی تھے جب انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہنے لگے یہ تو محمد اور اس کا لشکر ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اکبر خبیرویرانگی کے قریب تر ہوچکا ہے جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرسناتے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لڑائی کا آغاز کردیا اور اللہ تعالیٰ نے فتح نصیب فرمائی غنیمت تقسیم کی گئیں اور صفیہ (رض) حضرت عجیہ کلبی (رض) کے حصہ میں آئیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا : ایک خوبصورت باندی دحیہ کلبی کے حصہ میں آئی ہے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات سروں کے بدلہ میں صفیہ (رض) کو خریدلیا اور انھیں ام سلمہ (رض) کے پاس بھجوادیا تاکہ ام سلیم (رض) ان کی حالت درست کرلیں جب آپ نے صفیہ (رض) کے پاس جانے کا ارادہ کیا لوگوں نے کہا : ہمیں معلوم نہیں آیا کہ آپ نے اسے باندی بنالیا ہے یا اس سے شادی کرلی ہے۔ جب آپ نے خیبر سے کوچ کیا صفیہ (رض) کو اپنے پیچھے بٹھایا اور جب مدینہ کے قریب پہنچے سواری تیز کردی صحابہ کرام (رض) کا یہی دستور تھا جب مدینہ کے قریب پہنچے سواریوں کو تیز کرلیتے تھے اس اثناء میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی ٹھوک رکھا کر گرپڑی جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت صفیہ (رض) گرپڑے جب کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں یہ ماجرا دیکھ رہی تھیں وہ بول پڑیں : اللہ تعالیٰ اس یہودیہ کو دور رکھے اور اس کا برا کرے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ (رض) پر پردہ کردیا اور دوبارہ اپنے ساتھ اونٹنی پر سوار کرلیں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)