37829- عن سعيد بن المسيب قال: نادى عمر بن الخطاب وهو على المنبر بمنى يا أهل قرن! فقام مشايخ فقالوا: نحن يا أمير المؤمنين! قال: أفي قرن من اسمه أويس؟ فقال شيخ: يا أمير المؤمنين! ليس فينا من اسمه أويس إلا مجنون يسكن القفار والرمال ولا يألف ولا يؤلف، فقال: ذاك الذي أعنيه، إذا عدتم إلى قرن فاطلبوه وبلغوه سلامي وقولوا له: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم بشرني بك وأمرني أن أقرأ عليك سلامه، فعادوا إلى قرن فطلبوه فوجدوه في الرمال فأبلغوه سلام عمر وسلام رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أعرفني أمير المؤمنين وشهر باسمي السلام على رسول الله، اللهم صل عليه وعلى آله، وهام على وجهه فلم يوقف له بعد ذلك على أثر دهرا، ثم عاد في أيام علي فقاتل بين يديه فاستشهد في صفين."كر".
٣٧٨٢٩۔۔۔ سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے منیٰ میں منبر پر اہل قرن کو فرمایا : اے اہل قرن ! چنانچہ کچھ بزرگ لوگ اٹھے اور بولے : اے امیر المومنین ! ہم ہیں اہل قرن، حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کیا قرن میں کوئی اویس نامی آدمی ہے۔ ایک بوڑھے نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! ہمارے اندر اویس نامی صرف ایک پاگل آدمی ہے اور تو کوئی نہیں۔ جو ویرانوں اور جنگلوں میں رہتا ہے اور وہ نہ کسی سے دوستی رکھتا ہے اور نہ کسی سے کوئی دوستی وتعلق رکھتا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہاں یہی وہ شخص ہے، جس کی مجھے تلاش تھی۔ جب تم واپس (اپنے قبیلے) قرن میں جاؤ تو اس کو تلاش کرکے میرا سلام پہنچانا اور اس کو کہنا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تمہاری خوش خبری سنائی تھی اور مجھے حکم دیا تھا کہ میں تمہیں حضور کا سلام پہنچاؤں۔
چنانچہ وہ لوگ (اپنے قبیلے) قرن پہنچے اور ان کو تلاش کیا تو ریتلے ٹیلوں میں پایا۔
انھوں نے حضرت اویس (رح) کو حضرت امیر المومنین کا سلام پہنچایا اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سلام پہنچایا۔ حضرت (رح) نے پوچھا : کیا امیر المومنین مجھے پہچانتے ہیں اور انھوں نے میرا نام لیا ہے۔ پھر انھوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام بھیجا کہ سلام ہو رسول اللہ پر۔
اے اللہ ! ان پر اپنی رحمتیں نازل فرما اور ان کی آل پر رحمتیں نازل فرما۔
پھر حضرت اویس (رح) وہاں سے ادھر ادھر آوارہ پھرنے لگے اور پھر زمانے بھر ان کا نام نشان کچھ نہ ملا۔ پھر حضرت علی (رض) کے زمانہ خلافت میں واپس ظاہر ہوگئے اور حضرت علی (رض) کی معیت میں جنگ صفین میں شرکت کی اور شہید ہوگئے۔ (ابن عساکر)