hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37846

.

كنز العمال

37846
Kanz al-Ummal
37833- عن أبي الطاهر أحمد بن السرح ثنا عبد الله بن وهب عمن حدثه عن ابن عجلان عن محمد بن المنكدر قال: بينما عمر بن الخطاب يصلي على جنازة إذا بهاتف يهتف من خلفه: لا تسبقنا بالصلاة يرحمك الله! فانتظره حتى لحق بالصف، فكبر عمر وكبر معه الرجل فقال الهاتف: إن تعذبه فكثيرا عصاك وإن تغفر له ففقير إلي رحمتك! فنظر عمر وأصحابه إلى الرجل، فلما دفن الميت وسوى الرجل عليه من تراب القبر قال: طوبى لك يا صاحب القبر إن لم تكن عريفا أو جابيا أو خازنا أو كاتبا أو شرطيا! فقال عمر: خذوا لي الرجل نسأله عن صلاته وكلامه هذا ومن هو، فتوارى عنهم، فنظروا فإذا أثر قدمه ذراع، فقال: هذا والله الخضر الذي حدثنا عنه النبي صلى الله عليه وسلم. "كر".
٣٧٨٣٣۔۔۔ ابو الطاہر احمد بن السرح کہتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن وھب نے بیان کیا انھوں نے ایک شخص سے روایت کیا۔ اس شخص نے ابن عجلان سے روایت کی۔ انھوں نے محمد بن المنکدر سے روایت کی کہ :
حضرت عمر بن خطاب (رض) ایک جنازے کی نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو اچانک ایک آدمی نے پیچھے سے آواز دی : اللہ آپ پر رحم کرے، نماز میں جلدی نہ کیجئے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے جنازے کی تکبیر کہی اور اس آدمی نے بھی ان کے ساتھ تکبیر کہی پھر اس نے نماز میں یہ دعا کی :
ان تعذبہ فکثر اعصاک وان تغفر لہ ففقیر الی رحمتک۔
اے اللہ ! اگر تو اس کو عذاب دے تو بہت سے لوگ تیرے نافرمان ہیں اور اگر تو اس کو بخش دے تو یہ تیری رحمت کا محتاج ہے۔
پھر حضرت عمر (رض) اور آپ کے ساتھیوں نے اس شخص کو دیکھا۔ پھر جب میت کو دفن کردیا گیا تو اس آدمی نے
اس کی قبر کو مٹی دے کر فرمایا :
اے صاحب قبر ! خوشی کا مقام ہے تیرے لیے ! اگر تو کاہن یا نجومی نہ تھا، اور ٹیکس لینے والا نہ تھا، اور خزانچی نہ تھا، اور منشی نہ تھا اور پولیس والا نہ تھا۔
حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اس آدی کو میرے پاس لے کر آؤ۔ ہم اس سے اس کی نماز اور اس کے کلام کے متعلق پوچھیں گے۔ اور خود اس کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کون ہے ؟ مگر وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
لوگوں نے دیکھا تو اس کے پاؤں کا نشان ہاتھ بھر (آدھ گز کے قریب ) تھا۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ وہی خضر ہیں جن کے بارے میں ہم سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان کیا تھا۔ (رواہ ابن عساکر)